سعودی  ولی عہدکی اسرائیلی وزیراعظم سے متوقع ملاقات کی تردید 

نوائے وقت  |  Feb 14, 2020

سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے مابین متوقع ملاقات سے متعلق خبروں کی تردید کردی۔واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کردہ مشرق وسطی کے لیے متنازع امن کا منصوبہ فلسطین نے مسترد کردیا جس کے پس منظر میں خلیجی عرب ریاستوں اور اسرائیل کے مابین تعلقات معمول پر لانے کے بارے میں اسرائیلی میڈیا پر قیاس آرائوں کا زور تھا۔وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسرائیلی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے جواب میں العربیہ کو بتایا کہ 'سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین کوئی ملاقات کا منصوبہ نہیں ہے'۔انہوں نے کہا کہ 'فلسطین اسرائیل تنازع کے آغاز سے ہی سعودی عرب کی پالیسی بہت واضح ہے، سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین کوئی تعلقات نہیں ہیں اور ریاض فلسطین کے پیچھے مضبوطی سے کھڑا ہے'۔ایک سوال کے جواب میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ کہ سعودی عرب نے ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر آمادگی ظاہر کیا بشرطیکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان 'ایک منصفانہ اور قابل قبول تصفیہ' ہو۔سوڈان کی اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر شہزادہ فیصل نے کہا کہ 'سوڈان ایک خودمختار ملک ہے اور وہ اپنے خود مختار مفادات کا ذمہ دار ہے'۔شہزادہ فیصل بن فرحان ان کا کہنا تھا کہ 'جیسا کہ ہم ماضی میں کہہ چکے ہیں، سعودی عرب نے عرب لیگ کے دیگر ممبروں کے ساتھ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے ہمیشہ رضامندی کا ظاہر کیا، اگر کوئی منصفانہ اور قابل قبول تصفیہ ہوتا ہے جس پر فلسطین اور اسرائیل دونوں نے اتفاق کیا ہوتو سعودی پالیسی غیر جانبدار رہے گی۔وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ کئی دہائیوں سے اس موضوع پر افواہیں گردش کرتی رہی ہیں، فلسطین کے بارے میں سعودی عرب کی پالیسی واضح ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب مشرق وسطی کے بحران کے حل کے لیے کی جانے والی کسی بھی کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے اور اس مسئلے کے بارے میں سعودی عرب کی وابستگی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More