ایف بی آر اور ترکی کی وزارت تجارت کے درمیان اہم معاہدے

بول نیوز  |  Feb 15, 2020

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو اور ترکی کی وزارت تجارت کے درمیان تجارت اور کسٹمز تعاون کو فروغ دینے کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق ترکی کی وزارت تجارت اور وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و ریونیو ڈاکٹر حفیظ شیخ نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دئے ہیں۔

مفاہمت کی یادداشت پاکستان اور ترکی کے درمیان کسٹمز تعاون پر ہونے والے سال دو ہزار دوکے معاہدے کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔

چیئرپرسن ایف بی آر  نے کہا کہ اس مفاہمت کی یادداشت کے تحت دونوں اطراف اشیاء اور کارگو کی بین الاقوامی نقل وحرکت سے متعلقہ معلومات اور دستاویزات کا الیکٹرانک طریقے سے تبادلہ کریں گے جبکہ درآمدات، برآمدات اور ٹرانزٹ آپریشنز سے متعلق تمام معلومات کا  بھی تبادلہ کیا جائے گا۔

نوشین جاوید امجد  نے  یہ بھی کہا کہ ایک مشترکہ ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ اس مفاہمت کی یادداشت پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جاسکے۔

چیئرپرسن  کا کہنا تھا کہ اس مفاہمت کی یادداشت کی بدولت ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی چوری کا سدباب ہو گا جبکہ دونوں ممالک کسٹمز سے متعلقہ معاملات پر تعاون کو فروغ دیں گے۔

نوشین جاوید امجدکا یہ بھی کہنا تھا کہ کارگو کی کلیئرنس تیز تر ہو گی اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت بشمول ٹرانزٹ تجارت کو فروغ ملے گا جبکہ سمگل شدہ اشیاء کے خلاف اور کسٹمز سزاؤ ں پر تعاون بھی  کیا جائے گا۔

پاک ترک کے درمیان اطلاعات، ثقافت سمیت متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

چیئرپرسن ایف بی آر نوشین جاوید امجد کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے بین الاقوامی تجارتی پارٹنرز کی حوصلہ افزائی ہو گی جبکہ اس مفاہمت کی یادداشت سے دونوں اطراف کو فوائد حاصل ہوں گے۔

واضح رہے اس سے قبل پاکستان اور ترکی کے درمیان کلچر، سیاحت، ٹرانسپورٹ، دفاعی تربیت اور خوراک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے ۔

 پاک ترک کے درمیان تجارت کا حجم بڑھانے کے ایم او یو پر رجب طیب اردوان اور عمران خان نے دستخط کیے۔

اس موقع پر ریلوے، انفرااسٹرکچر، دونوں ممالک کے سرکاری ٹیلی ویژن سمیت دیگر اہم شعبہ جات میں باہمی تعاون کے ایم او یوز پر دستخط کیے گئے جبکہ پاکستان اور ترکی کے درمیان سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی 3 یادداشتوں پر بھی  دستخط کیے گئے تھے ۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More