عظیم شاعرجوش ملیح آبادی کی38ویں برسی آج منائی جارہی ہے

نوائے وقت  |  Feb 22, 2020

برصغیرپاک وہند کے نامور شاعر اور اردو مرثیے نام کمانے والے جوش ملیح آبادی کو اس دنیا سے گزرے 38ویں برس ہوگئے لیکن اردو ادب کی دنیا میں وہ آج بھی زندہ و جاوید ہیں۔ان کی شاعری میں ایسا اثر تھا کہ جوش کے نثری اور شعری مجموعے آج بھی ان کے مداحوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔جوش ملیح آبادی اردو کے نامور اور قادرالکلام شاعر تھے۔جوش ملیح آبادی کو شاعر انقلاب ، شاعر شباب ، شاعر خمریات اور شاعر فطرت کے القاب سے جانا جاتا ہے ۔جوش نے تقسیم ہند کے چند برس بعد ہجرت کر کے کراچی میں مستقل رہائش اختیار کی۔ جوش نہ صرف اردو میں ید طولی رکھتے تھے بلکہ عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی پر بھی عبور رکھتے تھے۔ اپنی اِسی خداداد لسانی صلاحیتوں کی بدولت انہوں نے قومی اردو لغت کی ترتیب و تالیف میں بھی بھرپور علمی معاونت کی۔ان کے شعری مجموعوں اور تصانیف میں نثری مجموعے یادوں کی بارات۔۔ مقالات جوش۔دیوان جوش۔۔ اور شاعری مجموعوں میں جوش کے مرثیے۔۔ طلوع فکر۔۔جوش کے سو شعر،نقش و نگار اورشعلہ و شبنم شامل ہیں۔کراچی میں1972 میں شائع ہونے والی جوش ملیح آبادی کی خود نوشت یادوں کی برات ایک ایسی کتاب ہے جس کی اشاعت کے بعد ہندو پاک کے ادبی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں زبردست پذیرائی حاصل کی تھی ۔ یہ حقیقت ہے کہ جوش کو ان کی خود نوشت کی وجہ سے بھی بہت شہرت حاصل ہوئی کیونکہ اس میں بہت سی متنازع باتیں کہی گئی ہیں۔عظیم شاعر جوش ملیح آبادی کا انتقال اسلام آباد میں 22 فروری 1982 کو ہوا تھا ۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More