کورونا وائرس سے اٹلی میں پہلے پاکستانی کی ہلاکت

اردو نیوز  |  Mar 11, 2020

کورونا وائرس سے پہلے پاکستانی کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق 61 سالہ پاکستانی شخص اٹلی کے شہر میلان میں ہلاک ہوا ہے۔

ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے اسلام آباد میں اردو نیوز کے نامہ نگار بشیر چودھری سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ پاکستانی شخص میلان کے قریب ہلاک ہوا ہے۔ ہمارا قونصل خانہ اطالوی حکام اور ہلاک ہونے والے شخص کے اہل خانہ کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔‘

واضح رہے کہ یہ کسی بھی پاکستانی کی ملک کے اندر یا ملک کے باہر کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہے۔ کورونا وائرس سے اب تک دنیا کے 110 ممالک میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ  18 ہزار 554 ہوگئی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دسمبر 2019 میں کورونا کی تشخیص کے بعد سے آج بدھ  تک دنیا بھر میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چار ہزار 281 ہوگئی ہے۔

بدھ کے روز دنیا بھر میں اس وائرس کے 12 سو 14 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

مزید پڑھیں

اٹلی کے شہروں وینس اور میلان کا لاک ڈاؤن

Node ID: 463606

کوئٹہ میں کورونا کا پہلا کیس، مریضوں کی تعداد 19 ہوگئی

Node ID: 464141

ناکافی سہولیات اور بدنظمی، لوگ تفتان کے قرنطینہ مرکز سے بھاگنے لگے

Node ID: 464246

چین، جہاں سے یہ وائرس پوری دنیا میں پھیلا، میں متاثرین کی تعداد 80 ہزار 778 ہو گئی ہے جب کہ تین ہزار 158 افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔

بدھ کو چین میں 24 نئے کیسز سامنے آئے جب کہ 22  ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

چین سے باہر کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 37 ہزار 776 ہوگئی ہے جب کہ وائرس سے اموات کی تعداد ایک ہزار 123 ہو گئی ہے۔ چین سے باہر کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں اٹلی 10 ہزار 149 کیسز اور 631 اموات کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ ایران 9 ہزار کیسز اور 291 اموات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔  

جنوبی کوریا میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 7 ہزار 755 اور 54 ہلاکتیں جب کہ فرانس میں ایک ہزار 784 کیسز اور 33 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

بدھ کو برونائی اور ترکی میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ایران میں بدھ کو کورونا سے 63 افراد ہلاک ہوگئے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)ایشیا میں بدھ تک رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 90 ہزار 511 اور ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 230  ہوگئی ہے۔ یورپ میں کورونا کے متاثرین 18 ہزار 110 اور ہلاکتیں 716، مشرق وسطیٰ میں آٹھ ہزار 566 کیسز، 299 ہلاکتیں، امریکہ اور کینیڈا میں 989 کیسز اور 29 ہلاکتیں، لاطینی امریکہ اور کیریبین میں 138 کیسز اور دو ہلاکتیں اور افریقہ میں 111 کیسز اور دو ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

خیال رہے ایران میں بدھ کے روز ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی ہے جو کہ ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ایران کے وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہانپوری کا کہنا تھا کہ ملک میں 958 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور کل متاثرین کی تعداد 9 ہزار ہو گئی ہے۔

دوسری جانب ایک برطانوی خاتون انڈونیشیا کے سیاحتی شہر بالی میں کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئی ہے۔ بالی میں برطانوی خاتون کی وائرس سے ہلاکت انڈونیشیا میں اس وبا سے ہونے والی پہلی موت ہے۔

اے ایف پی نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ 53 سالہ برطانوی شہری کی موت بالی کے ایک ہسپتال میں ہوئی ۔

رپورٹ کے مطابق وہ گذشتہ مہینے بالی پہنچی تھی اور یہ واضح نہیں کہ وہ بالی میں وائرس کا شکار ہوئی یا اس سے قبل ہی وہ کورونا سے متاثر ہوئی تھی۔

دوسری جانب بیلجیم میں بھی کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہوئی ہے۔ بیلجیم کے وزیر صحت میگی ڈی بلاک نے بتایا کہ متاثرہ شخص کی عمر 90 سال ہے۔ اب تک بیلجیم میں کورونا کے 314 کیسز سامنے آئے ہیں۔

اٹلی کی جانب سے کورونا سے نمٹنے کے لیے پیکچ کا اعلانچین سے باہر دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک اٹلی نے اس وائرس سے نمنٹنے کے لیے 25 ارب یوروز کے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔

حکومت نے اٹلی میں فٹ بال لیگ بھی تین اپریل تک معطل کر دی (فوٹو: اے ایف پی)اٹلی کے وزیر اعظم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’25 ارب یوروز کے پیکیچ کو فوری استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘ اٹلی کے وزیر خزانہ کے مطابق ’پیکچ کا آدھا حصہ فوری طور پر استعمال کیا جائے گا اور باقی کو ریزرو میں رکھا جائے گا۔‘

خیال رہے کہ اٹلی میں کورونا کے وبائی صورت حال اختیار کرنے کے بعد اٹلی کی حکومت نے اپنے 6 کروڑ شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ’گھروں میں رہیں‘ اور صرف انتہائی ضرورت کے وقت اور طبی وجوہات کی بنا پر ہی گھر سے باہر نکلیں۔

اطالوی حکومت نے ملک میں فٹ بال لیگ بھی تین اپریل تک معطل کر دی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More