ذاتی وجوہات کی بنا پر خاموش تھی: مریم نواز

اردو نیوز  |  Mar 12, 2020

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ انہیں کسی نے خاموش نہیں کرایا بلکہ وہ کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر خاموش تھیں اور انہیں جب پارٹی قیادت اجازت دے گی وہ سامنے آئیں گی۔

جمعرات کو اسلام آباد میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں (شاہد خاقان عباسی) نے جھوٹے مقدمات میں لمبی قید کاٹی اور پارٹی کے ساتھ بھرپور وفاداری دکھائی ہے۔

مزید پڑھیںمریم اور اولڈ انکلNode ID: 452761’کیا بیٹی ریسٹورنٹ میں تیمارداری کرے گی؟‘Node ID: 453056لندن: نواز شریف کی تصویریں کیا کہتی ہیں؟Node ID: 453191صحافی کی جانب سے خاموش رہنے کی وجوہات پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نے الٹا صحافی سے سوال کرتے ہوئے کہا ’اگر میں بولوں گی تو کیا آپ مجھے دکھائیں گے؟ مجھ سے زیادہ زنجیروں میں تو میڈیا جکڑا ہوا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ والد کی بیماری کی وجہ سے فکرمند ہیں، جب دل میں کچھ اور چل رہا ہو تو الفاظ اور چہرہ ساتھ نہیں دیتے۔

میاں نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ ان کے دل کی دو شریانیں 90 فیصد بند ہیں جن کا علاج ہونا ہے۔

’میرے بغیر علاج نہ کروانے کے میاں صاحب سے منسوب بیان درست نہیں، عدالت نے جانے کی اجازت دی ٹھیک، ورنہ میاں صاحب سے کہوں گی کہ علاج کروا لیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میرے بہن بھائی میاں صاحب کے ساتھ ہیں، وہ ان کا خیال رکھتے ہیں۔ اولاد جتنی بھی ہو، باپ تو ایک ہوتا ہے، میری بھی خواہش ہے کہ ان کی خدمت کر سکوں۔‘

’میرے بغیر علاج نہ کروانے کے میاں صاحب سے منسوب بیان درست نہیں‘ (فوٹو: اے ایف پی)مریم نواز نے حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزرے کچھ عرصے میں جس طرح حکومت بے نقاب ہوئی ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

نواز شریف کی صحت کے بارے میں حکومتی حکام کی جانب سے اپنائے جانے والے نقطہ نظر کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ خود ہی کہتے تھے کہ وہ شدید بیمار ہیں۔ اب یہ کہتے ہیں کہ وہ بیمار نہیں، یہ صرف اتنا بتا دیں کہ وہ اس وقت جھوٹ بول رہے تھے یا اب بول رہے ہیں۔‘

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More