'حکومت سے معاملات طے'، ایم کیو ایم کی کابینہ میں واپسی

اردو نیوز  |  Mar 23, 2020

وفاقی حکومت کی جانب سے میئر کراچی کو ایک ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی ادائیگی کے اعلان کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے وفاقی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کر دیا ہے، اس بار ایم کیو ایم کو ایک کے بجائے دو وزارتیں دینے کا فیصلہ ہوا ہے۔

اتوار کو گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ایم کیو ایم کے بہادر آباد مرکز کا دورہ کیا اور متحدہ رہنماؤں سے ملاقات کی جس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینیر خالد مقبول صدیقی نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ ان کے معاملات طے پا گئے ہیں لہٰذا ان کی جماعت نے وفاقی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا اتحاد مثالی ہے اور یاد رکھا جائے گا۔'

مزید پڑھیں’پی ٹی آئی سے اتحاد بے سود رہا‘Node ID: 438621ایم کیو ایم کے وزیر وفاقی کابینہ سے الگNode ID: 452661ایم کیو ایم کی روایتی گُگلی یا بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ؟Node ID: 452971رواں سال جنوری میں ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے حکمران جماعت کی جانب سے کراچی کو فنڈز نہ دیے جانے کا جواز بنا کر وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

اس وقت پی ٹی آئی کی جانب سے متحدہ کو منانے کی کافی کوشش کی گئی تھی لیکن معاملات طے نہیں ہو سکے تھے۔ تاہم اتوار کو گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کے بعد کیو ایم نے اس حوالے سے مثبت پیشرفت کا عندیہ دیا۔

جنوری میں وفاقی کابینہ سے علیحدگی کے وقت متحدہ نے یہ شکوہ بھی کیا تھا کہ ان کو صرف ایک وزارت ملی ہے، جس پر سوال اٹھایا گیا تھا کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم بھی تو ایم کیو ایم رہنما ہیں۔

تاہم متحدہ نے مؤقف اپنایا تھا کہ چونکہ فروغ نسیم کو وزارت پی ٹی آئی نے اپنی ضرورت کے تحت دی تھی، لہٰذا اسے متحدہ کے حصے میں شمار نہ کیا جائے۔

تحریک انصاف سے معاملات طے پانے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ متحدہ کو وفاقی کابینہ میں اب دو وزارتیں دی جائیں گی۔

خالد مقبول کے مطابق فیصل سبزواری بھی کابینہ کا حصہ ہوں گے (فوٹو: ٹوئٹر)یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ خالد مقبول صدیقی نے پارٹی کنوینیر کے عہدے پر رہتے ہوئے وزارت نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ متحدہ کی طرف سے مرزا امین الحق اور فیصل سبزواری وفاقی کابینہ کا حصہ بنیں گے۔

علاوہ ازیں گورنر سندھ نے ایم کیو مرکز پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی حکومت نے کراچی اور حیدر آباد میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے سات ارب روپے کے پیکیج کی منظوری دے دی ہے، جس میں سے ایک ارب روپے میئر کراچی وسیم اختر کو دیے جا چکے ہیں۔

عمران اسماعیل نے مزید بتایا کہ حیدر آباد کے میئر کو بھی ایک ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی ادائیگی کی جائے گی جبکہ حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کے لیے بھی فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More