'کلوروکوئن کورونا کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے'

اردو نیوز  |  Mar 26, 2020

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کورونا وائرس کے علاج کے لیے کلوروکوئن نامی دوا کی منظوری کے بیان کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ دوا واقعی مؤثر ہے کہ نہیں۔

ایک تحقیق کے مطابق کلوروکوئن کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے غیر مؤثر ہی نہیں بلکہ نقصان دہ بھی ہے۔

برطانوی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے اٹلی کے جیزولینو ہسپتال کے وبائی مرض کے یونٹ پر تحقیق کرکے اسے شائع کیا ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ کلوروکوئن کے کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں اور اس کی کم قیمت اور دنیا بھر میں دستیابی کی وجہ سے اس دوا کو کورونا وائرس کے علاج کے لیے مؤثر مانا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیںکورونا: علاج کے لیے ’کلوروکین‘ کی منظوریNode ID: 465901'کورونا کی دوا منظور': ٹرمپ کا دعویٰ غلط؟Node ID: 466226افواہیں کورونا وائرس سے کہیں زیادہ تباہ کنNode ID: 467236تحقیق کے مطابق کلوروکوئن کے لیب ٹیسٹ میں دیکھا گیا ہے کہ اس دوا سے کچھ وائرسز کو انسانی جسم میں پھییلنے سے روکا جا سکتا ہے، لیکن تا حال اس سے کسی جان لیوا وائرس جیسے کہ کورونا کے انفیکشن کا علاج نہیں ہوا ہے۔ 

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس دوا کے استعمال سے مدافعتی نظام پر بھی منفی اثر ہو سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کلوروکوئن کو محتاط طریقے سے استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے ملیریا کے لیے استعمال ہونے والی دوا کلوروکوئن کا استعمال ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس دوا کی منظوری دے دی ہے۔

تاہم اس بیان کے بعد فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کہا کہ 'کورونا کے علاج یا بچاؤ کے لیے ابھی تک کوئی دوا منظور نہیں کی گئی ہے۔'

تحقیق کے مطابق اس دوا کا مدافعتی نظام پر بھی منفی اثر ہو سکتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پیپریس بریفنگ کے بعد سامنے آنے والے ردعمل میں ایف ڈی اے کا کہنا تھا کہ کلوروکوئن ایک اور مقصد کے لیے پہلے سے منظور شدہ ہے اس لیے ڈاکٹرز کو اجازت ہے کہ اگر وہ چاہیں تو کورونا وائرس وغیرہ کے لیے بھی اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم کورونا کے علاج کے لیے اس کا مؤثر اور محفوظ ہونا ابھی تک ثابت نہیں ہوا ہے۔

ایف ڈی اے کمشنر ڈاکٹر سٹیفن ہان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے مریضوں پر ایک بڑے تجربے کے بعد ہی اس دوا کا استعمال ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More