کروناوائرس:26مارچ،دنیا بھر میں ہلاکتیں 22ہزارسےمتجاوز

سماء نیوز  |  Mar 26, 2020

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے اموات 22 ہزار سے تجاوز کر گئیں، 17 ہزار سے زائد نئے کیسز کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 88 ہزار سے بڑھ گئی۔ آج 26 مارچ کو مزید 771 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، اسپین میں 442 اور ایران میں 157 افراد ہلاک ہوگئے، 17 ہزار سے زائد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

کرونا وائرس سے متعلق مریضوں اور اموات کا ریکارڈ جمع کرنیوالی ویب سائٹ کے مطابق چین کے شہر ووہان سے دنیا بھر میں پھیلنے والے انتہائی مہلک مرض کے شکار افراد کی تعداد 4 لاکھ 88 ہزار سے تجاوز کرگئی، جن میں ایک لاکھ 17 ہزار 600 افراد صحتیاب ہوچکے، 3 لاکھ 30 ہزار 680 مریض اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، 17 ہزار سے زائد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

آج جمعرات (26 مارچ) کو بھی دنیا بھر میں 17 ہزار سے زائد نئے کیسز اور 771 اموات ریکارڈ ہوئیں، جس کے بعد دنیا بھر میں مرنیوالوں کی مجموعی تعداد 22 ہزار سے تجاوز کر گئی۔

چین کے شہر ووہان میں رواں سال 22 جنوری کو پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی تھی، جس کے بعد سے دنیا بھر کے تقریباً 200 ممالک میں یہ مرض پھیل چکا ہے، اب تک سب سے زیادہ اٹلی میں 7503، اسپین 4089، چین میں 3287 اور ایران میں 2234 ہلاکتیں رپورٹ ہوچکی ہیں۔

جمعرات کو اسپین میں مزید 442 اور ایران میں مزید 157 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، چین میں مزید 6 افراد زندگی کی بازی ہار گئے، تاہم وہاں رپورٹ ہونیوالے نئے کیسز کی تعداد صرف 67 ہے۔

امریکا میں مزید 9 ہلاکتوں کے بعد تعداد 1036، جرمنی میں 16 اموات کے بعد 222، سوئٹزر لینڈ میں 16 ہلاکتوں کے بعد 169 اور بیلجیئم میں مزید 42 اموات کے بعد تعداد 220 تک پہنچ گئی، فرانس میں اب تک 1331 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

دنیا کے دیگر ممالک میں آج انڈونیشیا میں 20 ہلاکتوں کے بعد تعداد 78 تک پہنچ گئی، پرتگال میں 17، آسٹریا 11، جنوبی کوریا 5، ملائیشیا 3، سویڈن، آسٹریلیا، فن لینڈ، سربیا 2، برازیل، اسرائیل، یونان، کروشیا، میکسیکو، البانیا، تیونس، آذربائیجان، کانگو، چینل آئی لینڈ میں ایک 1 مریض کرونا وائرس سے ہلاک ہوگیا۔

پاکستان میں مزید 60 کیسز مثبت آنے کے بعد تعداد 1123 تک پہنچ گئی، 8 افراد جاں بحق اور 20 سے زائد صحت یاب ہوچکے ہیں، ایک ہزار 100 سے زائد مریض اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن میں سے 5 کی حالت تشویشناک ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More