جاگنگ اور چہل قدمی کرنے والے کرونا وائرس لاحق ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں; ماہرین

نوائے وقت  |  Apr 10, 2020

 ٹیکنالوجی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اگر آپ کسی پارک میں سماجی فاصلہ رکھتے ہوئے بھی جاگنگ یا چہل قدمی کر رہے ہیں، تو آپ کرونا وائرس لاحق ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیدرلینڈز کی ایک ٹیکنالوجی یونی ورسٹی کے ماہرین نے اس سلسلے میں ایک ڈیجیٹل نقل کے ذریعے دکھایا ہے کہ آگے پیچھے ایک قطار میں جاگنگ اور چہل قدمی آپ کو کرونا وائرس کے خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔ماہرین نے جاگنگ کرنے والوں کے لیے 6 فٹ کا سماجی فاصلہ بے کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ چھ فٹ کے فاصلے پر اپنے آگے جانے والے شخص کے عین پیچھے چلتے ہیں تو اس کی سانس کے ذریعے ہوا میں خارج ہونے والا وائرس زمین پر پہنچنے سے قبل آپ کے جسم سے ٹکرا چکا ہوتا ہے۔ماہرین نے ایک ویڈیو کے ذریعے دکھایا کہ اگرچہ جب کوئی انفیکٹڈ شخص کھانستا یا چھینکتا ہے تو وائرس کے ذرات چھ فٹ سے زیادہ دور نہیں جاتے، اور کشش ثقل انھیں زمین کی طرف کھینچ لیتی ہے، تاہم اگر اس کے عین پیچھے کوئی شخص آ رہا ہے تو پھر وہ نہایت غیر محفوظ ہے، وہ ذرات زمین تک پہنچنے سے قبل ہی ان تک پہنچ جاتا ہے۔ماہرین نے کہا کہ اس کے برعکس اگر چہل قدمی یا جاگنگ آگے پیچھے کی بجائے دائیں بائیں کی صورت میں کی جائے تو پھر وہ وائرس کے ذرات سے محفوظ رہیں گے۔ اس سے قبل ایک رپورٹ میں یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ اگر کسی شخص کے کھانسنے یا چھینے یا بات کرنے سے میوکس کے بڑے ذرات زیادہ طاقت سے ہوا میں نکلتے ہیں تو وہ چھ فٹ سے بھی زیادہ دوری پر جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں آپ کو چھ فٹ تو کیا 10 فٹ کا فاصلہ بھی ناکافی ہے، آپ کو زیادہ فاصلہ رکھ کر جاگنگ یا چہل قدمی کرنی چاہیے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More