صاحبِ مال پرہیزگار نے اپنی قیمتی مسند پر براجمان ہو کر فرمایا ’مگر یہ حرام ہے‘

ہم نیوز  |  May 09, 2020

سازینوں کی دنیا میں رانتی آج اپنے باپ سےمحروم ہو گئی کیونکہ کرشن لال بھیل اللہ کو پیارے ہو گئے۔ رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے نرم گو، رحمدل اور اپنے فن میں انتہائی مہارت رکھنے والے اس شخص کی داستان انتھک کاوشوں کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہے۔ جسے کبھی کبھی اگر کوئی کام مل جائے تو اسے دل و جان سے سرانجام دیتا تھا۔

ہندو مت کے پیروکار کرشن لال بھیل کا کہنا تھا کہ جب سب انسان ضرورت اور وضع کے اعتبار سے ایک ہی جیسے ہیں تو پھر مذہبی، سرحدی اور ذاتی بنیادوں پے فرق کیسا؟ کرشن لال بھیل نے چند سال پہلے علاقائی موسیقاروں پر بننے والی دستاویزی فلم انڈس بلوز میں نامور موسیقار اریب اظہر، ہدایتکار جواد شریف اور پروڈیوسر زیجاہ فضلی کے ساتھ بھی کام کیا۔

انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے فن کا مظاہرہ تو بہترین کیا، مگر نہ ہونے کے برابر حکومتی سرپرستی، مذہبی دراندازی اور عوام کی بےآگاہی کرشن لال بھیل جیسے عظیم فنکاروں کو ضائع کر دیتی ہے۔

ایک باصلاحیت لوک فنکار جس نے نیشنل ایوارڈ لوک ورثہ اسلام آباد، ریڈیو پاکستان بہاولپور ایوارڈ اور صوفی فیسٹیول ایوارڈ رفیع پیر تھیٹر لاہور جیسے اعزازات اپنے نام کیے، جمعرات 8 مئی 2020 کی صبح خاموشی سے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

ان کی فنی صلاحیتوں کا اعتراف اپنی جگہ، مگر کرشن لال بھیل صاحب بہترین اخلاق اور بے لوث محبت کی خوبیوں سے اس قدر لیس تھے کہ بین المذاہب امن اتحاد پاکستان کمیٹی کے چئیرمین جناب صوفی مسعود احمد صدیقی نے انہیں ہندو برادری کی جانب سے نائب صدر متعین کیا۔ اس ذمہ داری کو انہوں نے مذہبی اختلافات سے بالاتر ہو کر بھرپور انداز سے نبھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی لوگ ہمیں موسیقی سے منع کرتے ہیں مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان سازینوں سے کتنے گھروں کے چولہے جلتے ہیں جو یہ لوگ جلا کے نہیں دے سکتے۔

حال ہی میں پی پی اے ایف اور “فیس پاکستان” کے نام سے چلنے والی این جی او نے مل کر رانتی سمیت نو ایسے سازینے جو آہستہ آہستہ ناپید ہوتے جا رہے ہیں، پر “ہیریٹیج لائیو” (جاگتی ثقافت) کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے ان سازینوں کو نہ صرف دوبارہ زندہ کیا جائے گا، بلکہ ان کے موسیقاروں کی معاشی و مالی حالت بہتر بنانے اور ان کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

یہ بھی پڑھیں: 

اسی پروگرام میں کرشن لال بھیل صاحب نے اپنی رانتی اور ایک شاگرد سمیت حاضر ہونا تھا۔ مگر قسمت کا کھیل بہت نرالا ہے۔ پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی کرشن صاحب دنیا کو خیر باد کہہ گئے۔ ان کے ایک قریبی عزیز کے مطابق وہ چند ماہ سے علیل تھے مگر معاشی حالات تنگ ہونے کے باعث علاج نہ کروا سکے۔

اس تمام صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان سے یہ اپیل کی جاتی ہے کہ ایسے نایاب فنکاروں کی ان کے کام کے ذریعے مالی حالات بہتر کرنے کا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے ورنہ ہم ایک ایک کر کے سب انمول ہیرے کھو دیں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More