طیارہ حادثہ: ماڈل زارا عابد بھی مسافروں میں شامل

ہم نیوز  |  May 22, 2020

کراچی: پاکستان کی معروف ماڈل زارا عابد بھی حادثے کا شکار ہونے والی پی آئی اے کی پرواز پر سوار تھیں۔

ذرائع کے مطابق ماڈل کے اہل خانہ کراچی کے اسپتال میں موجود ہیں تاہم ابھی تک انہیں زارا عابد کے متعلق کوئی حتمی اطلاع معلوم نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب سابقہ ماڈل اور کیٹ واک پروڈکشنز کی سی ای او فریحا الطاف نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ہماری فیشن ماڈل زارا عابد حادثے کا شکار پی آئی اے کی پرواز کے مسافروں میں شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اس وقت شدید صدمے کی حالت میں ہوں۔

Pia plane crash. Our fashion model Zara Abid on list of passengers. Im devastated.

— Frieha Altaf (@FriehaAltaf) May 22, 2020

خیال رہے کہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کا مسافر طیارہ کراچی میں لینڈنگ سے کچھ دیر قبل رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں متعدد افراد جاں بحق ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 میں 99 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے تاہم جاں بحق افراد کے حتمی اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا پی آئی اے طیارہ حادثے پر اظہار افسوس، تحقیقات کی یقین دہانی

مسافر طیارہ لاہور سے کراچی کیلئے روانہ ہوا تھا اور کراچی ایئرپورٹ کے قریب ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہوا۔

پی آئی اے کے طیارے نے حادثے سے ایک گھنٹہ30 منٹ قبل لاہور ایئر پورٹ سے اڑان بھری تھی اور کراچی ائیر پورٹ پر لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے گرکر تباہ ہوا۔

ذرائع کے مطابق حادثے سے قبل طیارے کے کپتان نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو مے ڈے کال کی اور بتایا کہ طیارے کے انجن خراب ہو چکے ہیں۔ کپتان نے اے ٹی سی کو بتایا کہ ہم بائیں جانب ٹرن لے رہے ہیں۔ مے ڈے کال کے بعد طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: پی آئی اے کا مسافر طیارہ رہائشی علاقے پر گر کر تباہ،متعددافراد جاں بحق

ترجمان پی آئی اے نے ہم نیوز کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی ایئربس320 نے لاہور سے اڑان بھری تھی تاہم مزید معلومات کچھ دیر بعد پریس کانفرنس میں بتائی جائیں گی۔

ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کے آپریشنل ملازمین کو ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے اور ایمرجنسی کال سنٹر بھی فعال کر دیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More