طیارہ پہلے موبائل ٹاور سے ٹکرایا، پھر گھروں پر گرا، عینی شاہد

وائس آف امریکہ اردو  |  May 23, 2020

ویب ڈیسک — 

کراچی کے مئیر وسیم اختر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پے کہ جہاز ایک تنگ گلی میں گرا اور اس سے کئی مکان تباہ ہوئے ہیں۔ ملبہ ہٹانے سے پہلے جانی نقصان کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔ جتنی مشینری دستیاب تھی، سب کو طلب کرکے امدادی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

ایک شہری نجیب الرحمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جہاز جناح گارڈن میں مسجد بلال کے قریب ان کی گلی میں گرا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ خود جہازوں کے ٹیکنیشن رہے ہیں۔

انھوں نے گرنے سے پہلے جہاز کی آواز سنی اور وہ بتاسکتے تھے کہ وہ آواز ابنارمل تھی۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہے تھے کہ زور کا دھماکا ہوا اور ایسے لگا جیسے شدید نوعیت کا زلزلہ آگیا ہو۔ گھر سے باہر نکل کر دیکھا تو جہاز گرا ہوا تھا، آگ لگی ہوئی تھی اور دھویں کے بادل تھے۔

عینی شاہد شکیل نے میڈیا کو بتایا کہ طیارہ پہلے ایک موبائل ٹاور سے ٹکرایا اور اس کے بعد گھروں پر گرا۔جیونیوز کی سابق صحافی اریبہ رحمان نے فیس بک پر لکھا کہ طیارہ ان کا گھر کے قریب گرا۔ ان کے پڑوسی کے دو بچے اسی طیارے میں سوار تھے جن میں سے ایک کی موت کی تصدیق ہوگئی۔ اریبہ نے انصار نقوی کے لیے بھی دعا کی درخواست کی جو ان کے جیونیوز کے سابق سینئر اور اس طیارے میں سوار تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More