امریکی خلاباز اسپیس ایکس سےخلا میں پہنچ گئے

سماء نیوز  |  May 31, 2020

امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع کنیڈی اسپیس سینٹر سے 30 مئی کو تاریخ میں پہلی بار 2 امریکی خلاباز پرائیوٹ کمپنی اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی جانب روانہ ہوئے۔

تقریباً دس سال کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی خلاباز اپنے ملک سے خلائی سفر پر روانہ ہوئے ہیں۔ ناسا نے 10 سال قبل اپنے راکٹ بھیجنے بند کر دیئے تھے جس کے امریکی خلاباز روس کے راکٹوں کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر آ جا رہے تھے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ اس مشن سے فالکن 9 راکٹ، ڈریگن اسپیس کرافٹ اور زمینی نظام کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ مدار، خلائی اسٹیشن پر لینڈنگ کے بارے میں خاصی ضروری معلومات حاصل ہو گی۔

فالکن راکٹ کے ذریعے 2 امریکی خلا باز ڈگ ہرلی اور باب بینکن امریکی وقت کے مطابق 30 مئی کی سہ پہر 3 بج کر 22 منٹ پر خلائی سفر پر روانہ ہوئے۔ خلابازوں کو فالکن 9 کے اندر خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ کپیسول میں رکھا گیا ہے جس میں تمام ضروری سہولیتں فراہم کی گئی ہیں۔

خلاباز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں منتقل ہونے سے قبل 19 گھنٹے اس کیپسول میں گزاریں گے، جس کے بعد وہ خلائی اسٹیشن سے جڑ جائے گا اور خلاباز اس میں منتقل ہو جائیں گے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسپیس ایکس کمپنی کیلی فورنیا کے ایک ارب پتی ایلن مسک کی ملکیت ہے۔ خلابازی کے شعبے میں آنے والی یہ دنیا کی پہلی پرائیویٹ کمپنی ہے، جو اس سے قبل کچھ عرصے سے زمین کے مدار میں راکٹ بھیجنے کے تجربات کر رہی تھی۔

خلا میں راکٹ بھیجنے اور اسے بحفاظت زمین پر اتارنے کے کامیاب تجربوں کے بعد آج پہلی بار خلا باز فالکن 9 کے ذریعے خلائی سفر پر روانہ ہوئے۔

دونوں خلاباز سابق فوجی پائلٹ ہیں۔ ان کے راکٹ فالکن 9 نے فلوریڈا کے تاریخی لانچنگ پیڈ سے ٹیک آف کیا۔ یہ وہی لانچنگ پیڈ ہے جہاں سے اپالو گیارہ نے چاند تک جانے کی کامیاب پرواز کی تھی اور نیل آرم اسٹرانگ نے چاند پر جا کر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔

کرونا وائرس کے عالمگیر وبائی مرض کے باوجود یہ مشن جاری رہا۔ دونوں خلا بازوں کو دو ہفتوں کے لیے قرنظینہ میں رکھا گیا۔ اس سے قبل مشن کو بدھ کو روانہ ہونا تھا، تاہم عین موقع پر خراب موسم کے باعث اس کی روانگی تاخیر کا شکار ہوئی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More