تنخواہوں میں کٹوتی نہیں کر سکتے، پاکستان کا آئی ایم ایف کو جواب

ہم نیوز  |  Jun 06, 2020

کراچی: پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی یم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق مذاکرات کے دوران وزارت خزانہ کے حکام نے واضح کردیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی نہیں کرسکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد کٹوتی کی جائے اور گریڈ 18 سے گریڈ 22 کے ملازمین کی تنخواہیں منجمد کی جائیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کے دونوں مطالبات ماننے سے انکار کیا ہے۔

مذاکرات کے 2 سیشن آن لائن ڈیجیٹل میٹنگ میں ہوئے جس میں آئی ایم ایف  نے آئندہ بجٹ میں اخراجات کم کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کو مہنگائی کی شرح سے محفوظ رکھنا ضروری ہو گا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے یا نہ بڑھانے کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: 

دوران مذاکرات آئی ایم ایف کے نمائندوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے بعد لوگوں کے خرچے کم ہوئے۔ پٹرول سستا ہونے اور لاک ڈاؤن کے باعث ٹرانسپورٹ کے خرچے کم ہوئے ہیں

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ جی 20 ممالک میں مہنگائی کی شرح محض 2 فیصد ہے۔ جی 20 ممالک میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 20 فیصد کم کی گئی ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا۔

ہم نیوز کے مطابق کورونا وائرس کے سبب معیشت کو جو نقصان ہوا اس کی وجہ سے بجٹ کے اہداف کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور وفاقی وزارتوں کی طرف سے دی گئی بجٹ تجاویز پر بھی مزید کٹ لگا دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ کا حجم 7 ہزار 600 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ نئے مالی سال میں وفاق کی خالص آمدن کا تخمینہ 4 ہزار 200 ارب روپے ہو گا جبکہ خسارے کا تخمینہ 2 ہزار 896 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ بجٹ میں دفاع کے لیے ایک ہزار 402 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جبکہ سبسڈی کے لیے 260 ارب اور پینشن کے لیے 475 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ کے لیے شرح نمو کا ہدف 3 فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اگلے مالی سال وفاقی حکومت کے اخراجات 495 ارب روپے رہیں گے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ شرح نمو کے 4 اعشاریہ ایک فیصد تک جائے گا اور آئندہ 3 سال میں برآمدات میں 30 فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More