بجلی کے تین مہینوں کے بِل پورے معاف، عوام کی اُمنگوں کی ترجمانی ہوگئی، اہم خبر آگئی

سچ ٹی وی  |  Jun 06, 2020

انکا مزید کہنا تھا کہ ٹکٹوں میں 50 فیصد ریلیف دیا جائے اورموجودہ حکومت دھاندلی کی پیدا وار ہے، 18ویں ترمیم میں ردوبدل تسلیم نہیں کریں گے، نیب کی یکطرفہ کاروائیاں بند کی جائیں۔

انہوں نے پشاور میں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیزکانفرنس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ اورسیز پاکستانیوں کو فوری وطن واپس لایا جائے، انٹرنیشنل ایئرلائن کمپنیوں کو فلائٹ آپریشن کی اجازت دی جائے جبکہ تمام ایئرلائن کے ٹکٹوں میں 50 فیصد ریلیف دیا جائے اور بغیر کسی سیاسی سفارش کے ٹکٹ فراہم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں، دینی مدارس کو ماہرین کی مشاورت اور ایس اوپیز کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ٹڈی دل سے متاثرہ زمینداروں اور کاشتکاروں کو ریلیف پیکج دیا جائے۔حکومت کے اعلان کے مطابق بجلی کے تمام صارفین کو تین ماہ کے بجلی بل معاف کیے جائیں۔نیب کی طرف سے اپوزیشن قائدین کے خلاف یکطرفہ کاروائیاں بند کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آٹے کی قلت، پٹرول کی قلت، مصنوعی مہنگائی ناقابل برداشت حد سے بڑھ رہی ہے، جو کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی کا ثبوت ہے۔اس کافی الفور حل کیا جائے۔ نئے ضم شدہ اضلاع میں شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، وہاں امن وامان کا قیام اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔کورونا وباء سے متاثر تمام طبقات کو جامع ریلیف پیکج دیا جائے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، یہ ریفرنس آزاد عدلیہ اور ان کے فیصلوں پر وار ہے،اپوزیشن جماعتیں اس کی پرزور مذمت کرتی ہیں، اور آزاد عدلیہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 158کے تحت خیبرپختونخواہ کو گیس کی پیداوار پرترجیحی استعمال کا حق اور رعایت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ آج کی اے پی سی نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو تمام سیاسی جماعتوں کے مرکزی قائدین سے رابطے کرے گی، تاکہ قومی سطح پر ایک لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کی صورتحال میں این ایف سی جیسے ایشو لانے کی مذمت کرتے ہیں،دسویں این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد بڑھایا جائے۔ فاٹا انضمام کے بعد کے پی کا حصہ بڑھایا جائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت دھاندلی کی پیدا وار ہے۔ اٹھارویں ترمیم میں ردوبدل تسلیم نہیں کریں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More