چین نے اپنے شہریوں کو آسٹریلیا کے سفر سے روک دیا

وائس آف امریکہ اردو  |  Jun 06, 2020

واشنگٹن — چین نے اپنے شہریوں کو آسٹریلیا نہ جانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ چینی اور ایشیائی باشندوں کے خلاف نسلی تعصب برتا جا رہا ہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کا یہ اقدام بظاہر آسٹریلیا کو اس بارے میں سزا دینا ہے کہ وہ عالمی وبا کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق عالمی تحقیقات کی حمایت کیوں کر رہا ہے۔

جمعے کے روز چین کی وزارت ثقافت اور سیاحت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا میں کوویڈ 19 کی بنا پر نسلی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے چینی اور ایشیائی باشندوں کے خلاف سخت الفاظ اور پرتشدد واقعات کا اضافہ ہوا ہے۔

وزارت سیاحت و ثقافت نے اپنے بیان میں چین کے سیاحوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے تحفظ و سلامتی سے متعلق آگہی میں اضافہ کریں اور آسٹریلیا کے سفر سے گریز کریں۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق تحقیقات کی حمایت کرنے کے ردعمل میں چین پہلے ہی آسٹریلیا پر 80 فی صد سے زیادہ محصولات نافذ کر کے اپنے ملک میں اس کی درآمد مؤثر طور پر روک چکا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین کی خلاف ورزی کر کے اپنی جو کی فصل کو سبسڈی دے رہا ہے، تاکہ اسے اپنی پیداواری قیمت سے کم پر چین میں فروخت کر سکے۔

اس سے ایک ہفتہ قبل چین نے لیبل کے تنازع پر آسٹریلیا کے چار سب سے بڑے مذبحہ خانوں سے گوشت کی درآمد بند کر دی تھی۔

آسٹریلیا کے وزیر تجارت سائمن برمنگھم نے منگل کے روز کہا کہ ان کا ملک تجارت کی جنگ میں الجھنا نہیں چاہتا۔ لیکن، ان کا کہنا تھا کہ چین نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین کا اطلاق کرتے ہوئے حقائق اور قانون دونوں میں غلطیاں کی ہیں۔

آسٹریلیا ان ملکوں میں شامل ہے جو کرونا وائرس کی شروعات اور اس کی روک تھام کے اقدامات سے متعلق بین الاقوامی تحقیقات پر زور دے رہے ہیں۔ چین نے اس سے انکار کیا ہے کہ آسٹریلیا سے گوشت اور جو کی درآمد روکنے کا تعلق بین الاقوامی تحقیقات کی حمایت کرنے سے ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اپنے زیادہ تر رکن ممالک کی جانب سے اس بارے میں ایک آزادنہ انکواری کا مطالبہ قبول کر لیا ہے کہ کرونا وائرس کے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی ردعمل کیا تھا، جس کی شروعات پچھلے سال چین سے ہوئی تھی۔

چین کے سفیر جیانگ یی نے آسٹریلیا کے میڈیا کو بتایا کہ جو بھی ملک کرونا وائرس کی انکواری کی حمایت کرے گا، اسے چین کی جانب سے سیاحت کے بائیکاٹ اور گوشت اور جو کی برآمد پر پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چین آسڑیلیا کے گوشت کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور اس کا 30 فی صد گوشت چین بھیجا جاتا ہے۔ چین دنیا بھر سے جو اور بارلے کا بھی سب سے بڑا خریدار ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More