امریکی سپریم کورٹ نےاسقاط حمل کاقانون کالعدم قرار دیدیا،نیویارک ٹائمز

سماء نیوز  |  Jun 30, 2020

امریکا کے سپریم کورٹ نے ریاست لوزیانا کے اسقاط حمل سے متعلق قانون کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اسقاط حمل کے حق کے لیے جدوجہد کرنے والوں نے سپریم کورٹ کے اس اقدام پر خوشی کا اظہار کیا ہے جب کہ وائٹ ہاؤس نے سپریم کورٹ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کنزرویٹو کا نقطہ نظر رکھنے والے چیف جسٹس جان رابرٹس کا یہ فیصلہ کچھ لوگوں کیلئے حیران کن تھا، جنہوں نے 4 لبرل ججز کے ساتھ مل کر کثرت رائے سے یہ فیصلہ دیا۔

وائٹ ہاؤس کی تنقید

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے ماؤں کی صحت اور جنم نہ لینے والے بچوں کی زندگی کی قدر گھٹائی ہے۔ بنیادی جمہوری اصولوں کی پاسداری کی بجائے غیر منتخب ججز نے ریاستی حکومتوں کے اختیارات میں مداخلت کی ہے اور جائز اور محفوظ قواعد کے مقابلے میں اسقاط حمل کے حق میں اپنی پالیسی کو ترجیح دی ہے۔

فیصلے کا امریکی معاشرے پر اثر

چیف جسٹس نے فیصلے میں کہا کہ سابقہ فیصلوں کی عدالتی نظیر کی روشنی میں ہمارے لیے ضروری ہے کہ اگر خصوصی صورت حال نہ ہو تو تمام مقدمات کو ایک طرح سے دیکھیں۔ لوزیانا کا قانون اسقاط حمل کروانے والوں پر اسی طرح بوجھ بڑھاتا ہے جیسے ٹیکساس کا قانون کرتا تھا۔ چنانچہ لوزیانا کا قانون ہماری نظیروں کے مطابق قائم نہیں رہ سکتا۔

یہ فیصلہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ قدامت پرست امریکا میں اسقاط حمل کے حق کو ختم کروانا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ صدر ٹرمپ کے نامزد کردہ نئے کنزرویٹو جج سپریم کورٹ کے دوسرے ججوں کو اسقاط حمل پر پابندیاں لگوانے کے لیے راضی کر لیں گے اور انجام کار 1973 کے اس فیصلے کو بھی بدلا جا سکے گا جس میں اسقاط حمل کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے جج اسٹیفن برائر نے لکھا کہ ججز کی اکثریت سمجھتی ہے کہ لوزیانا کا قانون غیر آئینی ہے۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اسقاط حمل کی مخالفت کی وجہ سے بعض اسپتالوں نے یہ عمل کرنے والے ڈاکٹروں کے مریضوں کو داخلے کی اجازت سے انکار کیا۔

ماہرین صحت کیا کہتے ہیں؟

ماہرین صحت کا خیال ہے کہ امریکا میں ایک سال میں 8 لاکھ کے لگ بھگ اسقاط حمل کے کیسز کیے جاتے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ برسوں میں کم ہوئی ہے کیونکہ 1978 سے 1997 تک اس کا اوسط 10 لاکھ تھا اور ایک مرحلے پر 14 لاکھ تک پہنچ گیا تھا۔

امریکی قانون اور اسقاط حمل

قانون کے مطابق اپنے کلینک میں اسقاط حمل کرنے والے ڈاکٹرز کے لیے ضروری تھا کہ وہ قریبی اسپتالوں میں اپنے مریضوں کو داخل کرنے کی اجازت حاصل کریں۔ ایکٹوسٹس کو اعتراض تھا کہ خواتین کو اس عمل کے بعد کبھی کبھار ہی اسپتال میں داخلے کی ضرورت پڑتی ہے اور اسے لازم قرار دینے سے اخراجات بڑھ جائیں گے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More