وبائی وائرس: چمگادڑ کے بعد اب سور سے خطرہ؟

اردو نیوز  |  Jun 30, 2020

چین کے سوروں میں پائے جانے والا ایک نیا فلو وائرس انسانوں کے لیے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے اور ممکنہ طور پر 'وبائی وائرس' بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لیے اس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت۔

اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال اس سے کوئی خطرہ نہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس وائرس کو باریک بینی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے کوئی فوری خطرہ نہیں ہے۔

مزید پڑھیںووہان: گوشت کی منڈیاں کھلنا شروع، کاروبار مندی کا شکارNode ID: 471306کتے اور بلیوں کو مار کر گوشت بیچنے والا جوڑا گرفتارNode ID: 485476چین: تنقید کے باوجود کتوں کا گوشت کھانے کا سالانہ میلہ جاریNode ID: 487361

ایک امریکی جرنل پروسیڈنگس آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ چینی محققین کی ایک ٹیم کو 2011 سے 2018 تک سوروں میں انفلوینزا وائس ملا جو کہ ایچ ون این ون کی 'جی فور' سٹرین کا ہے اور جس میں وبا بننے کے تمام عناصر ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سوروں کے فارم میں کام کرنے والے افراد کے خون میں بھی اس وائرس کے نشان ملے ہیں۔ 

تحقیق کے مطابق اس وائرس کے انسانوں میں منتقل ہونے کا خطرہ ہیں، خاص طور پر چین کے گنجان آباد علاقوں میں جہاں لوگ فارمز کے قریب رہتے ہیں، جہاں سوروں کو ذبح خانوں اور کھانوں کی مارکیٹس میں رکھا جاتا ہے۔

گوشت کے بازار اور ذبح خانوں کو اس نئے وائرس کا مرکز کہا جا رہا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

واضح رہے کہ کورونا وائرس جس کی وجہ سے دنیا بھر میں کووڈ 19 کی وبا پھیلی ہوئی ہے، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک چمگادڑ کے ذریعے ووہان کی ایک مچھلی منڈی میں انسانوں کے اندر داخل ہوا۔

ووہان کی اس مچھلی منڈی میں یہ وائرس پہلی بار پایا گیا تھا.

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More