کورونا وائرس: سویب ٹیسٹ کے بارے میں بے بنیاد دعووں کی حقیقت

بی بی سی اردو  |  Jul 19, 2020

Al Seib

سوشل میڈیا پر ایسے دعوے بھی گردش کر رہے ہیں کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ نقصان کا باعث بھی ہو سکتے ہیں۔

ہم نے ایسے کچھ زیادہ گردش کرنے والے دعوؤں کی تحقیقات کی ہیں۔

ناک سے سویب کا ٹیسٹ دماغ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا

فیس بک اور انسٹاگرام پر خون آلود سویب کی تصویر بہت زیادہ شیئر ہوئیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس نے دماغ کی حفاظتی تہوں کو متاثر کیا ہے۔

یہ خیال گمراہ کُن ہے۔

دماغ تک جانے والے راستے میں حائل رکاوٹیں

دماغ کی حفاظت کرنے کے لیے کئی حفاظتی تہیں ہوتی ہیں۔ اس میں سب سے پہلے تو گردن ہی ہے۔ اس کے علاوہ بھی دماغ کئی حفاظتی جھلیوں اور سیال میں گھرا ہوا ہوتا ہے۔

خون کی وہ رگیں جو دماغ سے ملتی ہیں، وہ خلیوں کی تہوں میں گھری ہوتی ہیں جو خون میں شامل مالیکیولز کو دماغ تک پہنچنے سے روکتی ہیں جبکہ یہ آکسیجن اور غذائی اجزا کو دماغ تک جانے دیتے ہیں۔

ناک میں ڈالے جانے والے سویب کو دماغ کو خون سے محفوظ رکھنے والی تہہ تک پہنچنے کے لیے بافتوں کی متعدد تہوں کو توڑنا اور ایک ہڈی کو ڈرل کرنا ہوگا۔

ایک جھوٹی پوسٹ، جس کے مطابق سویب کو دماغ کو خون سے محفوظ رکھنے والی رکاوٹ تک پہنچانا ہوتا ہے

بغیر کسی بڑی قوت کے سویب کو دماغ کو خون سے محفوظ رکھنے والی رکاوٹ تک نہیں پہنچایا جا سکتا ہے۔ ایسا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب کئی تہوں اور ہڈیوں کو توڑ دیا جائے۔ برطانیہ کے نیورو سائنس ایسوسی ایشن کے رکن ڈاکٹر لِز کاؤلتھارڈ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے کووڈ کی وجہ سے کوئی پیچیدگی نہیں دیکھی۔‘

نیزوفیرنگل یا ناک و گلے کا سویب ناک میں اندر کی جانب کورونا وائرس کی موجودگی کو جانچتا ہے اور یہ سویب کے ذریعے نمونے حاصل کرنے کی ایک تکنیک ہے۔

برطانیہ میں لوگوں میں کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے ناک اور گلے کا ایک ہی سویب عمومی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

لیورپول سکول آف ٹراپیکل میڈیسن کے ڈاکٹر ٹام ونگ فیلڈ کہتے ہیں کہ ’میں نے ہسپتال میں کام کرتے ہوئے کئی مریضوں کے سویب حاصل کیے ہیں اور میں ایک تجربے میں شامل رضاکار کے طور پر ہر ہفتے خود سے بھی سویب کے ذریعے نمونہ حاصل کرتا ہوں۔ اپنی ناک میں اتنی اوپر تک کسی چیز کا ہونا عام بات نہیں ہے۔ سویب سے آپ کو خارش یا گدگدی ہوسکتی ہے۔

یہ جھوٹے دعوے امریکہ سے تعلق رکھنے والے فیس بک اکاؤنٹس پر چھ جولائی کو سامنے آنے شروع ہوئے اور ان میں سے کچھ میں تو لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ٹیسٹنگ کروانے سے انکار کر دیں۔

فیس بک پر موجود حقائق پرکھنے والی تنظیموں کی جانب سے ان میں سے کچھ کو ’جھوٹا‘ قرار دیا گیا ہے۔

ہمیں رومانیئن، فرینچ، ڈچ، اور پرتگالی زبانوں میں شائع کیے گئے گرافکس ملے جن میں ہر ایک پر ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ردِعمل دیا تھا۔

ٹیسٹنگ کٹس سے آپ کو وائرس نہیں لگے گا

آلودہ ٹیسٹنگ کٹس کے بارے میں خبروں کو گمراہ کُن طور پر ایسے پیش کیا جا رہا ہے کہ جیسے ٹیسٹ کروانے سے آپ کو کورونا وائرس لگ سکتا ہے۔

درحقیقت آلودہ کٹس کے بارے میں پھیلنے والی شہہ سرخیاں اصل میں امریکہ کے سینٹر فار ڈزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتی ہیں جو وبا کے ابتدائی دنوں میں لیبارٹریوں کی غلطی کی وجہ سے ٹیسٹ غیر مؤثر ہوجانے کے بارے میں تھی۔

چنانچہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ٹیسٹ کروانے سے آپ کو وائرس لگ سکتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے ایک مضمون کو آلودہ ٹیسٹنگ کٹس کے حوالے سے گمراہ کُن طور پر پیش کیا گیا

فیس بک پر رواں ہفتے فاکس نیوز کے میزبان ٹکر کارلسن کے مداحوں کے پیج سے ایک پوسٹ کی گئی جو تین ہزار سے زائد مرتبہ شیئر ہوئی ہے۔ اس پوسٹ میں آلودہ ٹیسٹنگ کٹس کے بارے میں ایک خبر کا لنک دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے: ’آپ کو کووڈ 19 چاہیے؟ آپ کو یہ مرض ایسے ملے گا!‘

جون میں شائع ہونے والے واشنگٹن پوسٹ کے اس مکمل مضمون میں ایک وفاقی جائزے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جن میں پایا گیا تھا کہ خراب ٹیسٹنگ کٹس اور لیبارٹری طریقہ کار کی وجہ سے سی ڈی سی کا ٹیسٹنگ پروگرام شروع ہونے میں تاخیر ہوئی۔ اس مضمون میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ خراب ٹیسٹنگ کٹس سے مریضوں کو وائرس لگ سکتا ہے۔

یہ مضمون پڑھنے کے لیے واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے فیس عائد ہے، اس لیے زیادہ تر لوگ اس مضمون کی شہ سرخی کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سمجھتے ہیں۔

حقائق کی جانچ کرنے والے امریکی اور انڈین گروہوں نے ان بے سر و پا دعووں کو بھی جھوٹا ثابت کیا ہے جس کے مطابق کورونا وائرس گیٹس فاؤنڈیشن کی سازش ہے تاکہ مریضوں میں مائیکروچپس نصب کی جا سکیں۔ یہ جھوٹے دعوے فیس بک پر ہزاروں مرتبہ شیئر کیے جا چکے ہیں اور ان سازشی نظریات سے مماثلت رکھتے ہیں جن کے مطابق کسی مجوزہ ویکسین پروگرام کی آڑ میں لوگوں میں مائیکروچپس نصب کر دی جائیں گی۔

اس حوالے سے کوئی ثبوت موجود نہیں کہ مائیکروچپس کا کورونا سے منسلک کوئی ایسا پروگرام جاری ہے اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے ان دعووں کی تردید کی ہے۔

’آخر سویب پر سانس کیوں نہیں چھوڑا جا سکتا؟‘

ایک میم شیئر کیا جا رہا ہے جس میں کہا گیا ہے: ’اگر کووڈ واقعی آپ کے سانس میں پایا جاتا ہے تو سویب پر سانس کیوں نہیں چھوڑا جا سکتا؟ انھیں ناک کے آخری سرے تک سویب ڈالنے کی کیا ضرورت ہے؟‘

اس میم پر فیس بک اور انسٹاگرام پر سات ہزار سے زیادہ لوگ ردِ عمل دے چکے ہیں۔

ایک گمراہ کُن پوسٹ جس میں کہا جا رہا ہے کہ اگر کورونا سانس کے ذریعے پھیلتا ہے تو سویب پر سانس چھوڑنا کافی کیوں نہیں ہو سکتا؟

کورونا وائرس اس وقت پھیلتا ہے جب کسی متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھنک سے وائرس سے لبریز ننھے قطرے ہوا میں خارج ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سویب پر سانس چھوڑنے سے اتنا مواد اکٹھا ہوجائے گا جو لیبارٹری ٹیسٹ کرنے کے لیے کافی ہوگا۔

ہم نے اس حوالے سے پبلک ہیلتھ انگلینڈ سے بات کی جنھوں نے کہا کہ ناک یا گلے کے اندر سے نمونہ حاصل کر کے زیادہ بہتر ٹیسٹ نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

سویب کا سرا کافی پتلا ہوتا ہے اور اگر آپ اس پر صرف سانس چھوڑیں تو یہ وائرس کے ذرات شاید نہ پکڑ سکے۔ تاہم اگر آپ اسے اپنی ناک یا گلے میں داخل کریں اور اسے انفیکشن کے مقام پر گھمائیں تو زیادہ امکان ہے کہ آپ کو متعدی مواد مل سکے گا جس سے ٹیسٹ کا زیادہ درست نتیجہ آنے کی توقع ہے۔

بنگلہ دیش میں وائرس سے پاک ہونے کے جھوٹے سرٹیفیکیٹ

ہم نے بنگلہ دیش میں جھوٹے سرٹیفیکیٹس کے سکینڈل پر بھی روشنی ڈالی ہے جن میں لوگوں کو کورونا وائرس سے پاک ہونے کی سند دی جاتی تھی۔

وہاں پر ٹیسٹ کیے بغیر منفی ٹیسٹ نتائج کی سند جاری کرنے پر کئی لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ان دستاویزات کی اہمیت اس لیے ہے کیونکہ تارکِ وطن مزدوروں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ بنگلہ دیش دیگر ممالک میں مقیم اپنے شہریوں کی آمدنی پر کافی انحصار کرتا ہے۔

تازہ ترین واقعے میں ایک ہسپتال کے مالک کو انڈیا کی سرحد کے قریب سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر ہزاروں جعلی رپورٹیں جاری کرنے کا الزام ہے اور پولیس نے انھیں نو روز کی تلاش کے بعد خاتون کے روپ میں فرار ہوتے ہوئے گرفتار کیا۔

اس کے علاوہ جرائم پیشہ افراد سوشل میڈیا پر بھی ایسے سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کے لیے اشتہار دے رہے ہیں۔

اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ بنگلہ دیش میں جعلی مثبت ٹیسٹ نتائج بھی فروخت کیے جا رہے ہیں جس کے ذریعے سرکاری افسران کام سے چھٹی لے سکتے ہیں۔

اضافی رپورٹنگ: اولگا رابنسن اور شایان سرداریزادہ

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More