چین نے برطانیہ کو ہانگ کانگ کے اندرونی معاملات میں مبینہ مداخلت پر خبردار کیا ہے

بی بی سی اردو  |  Jul 21, 2020

Reuters
ہانگ کانگ میں نئے سیکیورٹی قوانین کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے

چین نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے ہانگ کانگ کے بارے میں اپنی روش تبدیل نہیں کی تو اُس کو اِس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔

برطانیہ نے گزشتہ روز ہانگ کانگ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو چین کی طرف سے لگائے گئے سیکیورٹی قوانین پر احتجاج کے طور پر منسوخ کر دیا۔

برطانیہ کی طرف سے اس اعلان کے بعد لندن میں چین کے سفیر نے برطانیہ پر چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

لندن میں چین کے سفیر لیو ژاؤمنگ نے کہا کہ چین نے برطانیہ کے اندرونی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کی ہے اور برطانیہ کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔

اس ماہ کے شروع میں برطانوی وزیر اعظم بورس جانس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہانگ کانگ میں بسنے والے 30 لاکھ لوگوں کو برطانیہ آ کر آباد ہونے کا موقع فراہم کریں گے اور ان کو برطانیہ شہریت بھی دے دی جائے گی۔

برطانوی وزیر اعظم کی طرف سے یہ اعلان اس سال جون کے آخر میں ہانگ کانگ میں نافذ کیے گئے نئے سیکیورٹی قوانین کے رد عمل میں کیا گیا تھا جن کے تحت ہانگ کانگ کے لوگوں کو مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے چین منتقل کیا جا سکتا ہے۔

Getty Images

ناقدین کا خیال ہے کہ ان قوانین کے لاگو کیے جانے کے بعد جمہوریت پسند مظاہرین کو عمر قید کی سزائیں بھی دی جا سکیں گی۔

لندن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی ایک وجہ برطانوی حکومت کی طرف سے چین کی ٹیکنالوجی کمپنی کو برطانیہ کے فائیو جی موبائیل نیٹ ورک سے نکالنا کا اعلان بھی ہے۔

اسی دوران امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو گزشتہ رات برطانیہ کے دورے پر آئے ہیں جہاں وہ برطانوی وزیر اعظم سے چین اور کورونا وائرس کی وباء کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

ناقدین کا یہ بھی کہا ہے کہ ہانگ کانگ میں نافذ کیے جانے والے سیکیورٹی قوانین اس معاہدے کی خلاف ورزی بھی ہے جو سابقہ برطانوی کالونی ہانگ کانگ کو سنہ 1997 میں چین کے حوالے کیے جانے کے وقت کیا گیا تھا۔

اس قانون کے تحت پچاس سال تک چین شہری آزادیاں، جن میں احتجاج کرنے، اظہار رائے اور عدالیہ کی آزادی ہانگ کانگ کے بنیادی قوانین میں رکھنے کا پابند تھا اور اسی لیے اسے ایک ملک دو نظام کا نام دیا گیا تھا۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے پیر کو ہانگ کانگ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہانگ کانگ میں سیکیورٹی قوانین کا کسی طرح اطلاق کیا جائے گا اس بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہ کہا 'برطانیہ دیکھ رہا ہے بلکہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔'

اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اگر برطانیہ میں کوئی ایسا شخص موجود ہے جو ہانگ کانگ میں ہونے والے کسی جرم میں ملوث ہے تو اسے ہانگ کانگ کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

غلط راستہ:

چینی سفیر نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ برطانیہ نے اس اعلان سے بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی تعلقات کی بنیادی اقدار کی خلاف ورزی کی ہے۔

چین کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ چین برطانیہ پر زور دیتا ہے کہ وہ ہانگ کانگ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنا بند کرے جو ہر صورت چین کے بھی اندرونی معاملات ہیں۔

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر برطانیہ اس راستے پر چلتا رہا تو اس کو نتائج کا سامنا کرنے پڑے گا۔

برطانوی وزیر خارجہ نے اتوار کو چین پر الزام عائد کیا تھا کہ چین اویغور مسلمانوں کے خلاف بد ترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے اور ان خلاف ورزیوں کے ذمہ داران کے خلاف پابندی بھی لگائی جا سکتی ہیں۔

اویغور النسل لوگوں کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے جو ثقافتی اور لسانی طور پر وسطی ایشیا کی ریاستوں کے قریب ہیں اور وہ ترکی زبان بولتے ہیں۔

ان لوگوں کی اکثریت مغربی چین کے حصے شنکیانگ میں آباد ہیں جہاں ان کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ کے قریب ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ چینی حکومت نے دس لاکھ سے زیادہ اویغور افراد کو گزشتہ کئی سال سے حراست میں رکھا ہوا ہے اور ان حراستی مراکز کو از سر نو تعلیم کے مراکز قرار دیا جاتا ہے۔ حکومت پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ اویغر خواتین کو زبردستی بانجھ کر رہی ہے۔

چین ابتدا میں ان کیمپوں کی موجودگی کی تردید کرتا رہا ہے لیکن بعد میں اس نے انھیں علیحدگی پسند تشدد کو کچلنے کے لیے ایک ضروری اقدام قرار دیا تھا۔ یہ خواتین کو زبردستی بانجھ کرنے کے الزامات کو بھی رد کرتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More