پی ٹی اے کا آن لائن گیم پب جی پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ

روزنامہ خبریں  |  Jul 27, 2020

ہائیکورٹ نے پب جی گیم پر پابندی ختم کرنے کا حکم نہیں دیا، گیم پر پابندی خودکشی کے واقعات اور والدین کی درخواستیں موصول پر عائد کی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹیاسلام آباد (ویب ڈیسک ) پی ٹی اے نے آن لائن گیم پب جی پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا ، ہائیکورٹ نے پب جی گیم پر پابندی ختم کرنے کا حکم نہیں دیا،پب جی گیم پر پابندی والدین اور شہریوں کی 109شکایات اور درخواستیں موصول پر عائد کی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پی ٹی اے نے آن لائن گیم پب جی پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا ہے، پب جی گیم پر پابندی سے متعلق پی ٹی اے نے 23 جولائی کو سماعت کے بعد تفصیلی فیصلہ جاری کیا تھا۔پی ٹی اے نے والدین اور عوامی شکایات پر پیکا ایکٹ کے تحت کاروائی کی تھی۔ پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ نے پب جی گیم پر پابندی ختم کرنے کا حکم نہیں دیا ہے، عدالت نے پی ٹی اے کے یکم جولائی کے پابندی کے حکم نامے کی تفصیلات جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔پب جی گیم انتظامیہ نے پی ٹی اے کے سوالات کا ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔پب جی انتظامیہ سے پوچھا گیا کہ 16سال سے کم عمر بچوں کو گیم سے دور رکھنے کیلئے کیا اقدامات کیے؟ پنجاب پولیس نے پب جی گیم کھیلنے والے کم عمر بچوں کی خودکشی کی رپورٹ دی۔

اسی طرح والدین اور شہریوں کی جانب سے بھی 109شکایات اور گیم بند کرنے کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ واضح رہے اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے رواں ماہ ویڈیو گیم ’’پب جی‘‘ یعنی ’’پلیئر ان نونز بیٹل گراؤنڈز‘‘ پر لگائی گئی پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر بحال کرنے کا مشروط فیصلہ سنایا تھا۔فیصلہ کے مطابق پی ٹی اے ایک ہفتہ میں موصول شکایات پر زبانی یا تحریری حکم جاری کرے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے یہ فیصلہ اوپن کورٹ میں سنایا۔ عدالت نے پاکستان میں پب جی گیم کو کنٹرول کرنے والی کمپنی کی درخواست پر سنایا۔ خیال رہے کہ یکم جولائی کو پی ٹی اے نے عارضی طور پر ویڈیو گیم پب جی پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ پی ٹی اے کی طرف سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ معاشرے کے مختلف طبقوں سے موصول ہونے والی شکایات کے بعد اس ویڈیو گیم کو عارضی طور پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ان شکایات میں کہا گیا تھا کہ یہ گیم لت کا باعث، وقت کا ضیاع ہے اور اس سے بچوں کی جسمانی اور دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More