پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک اور خود کش حملہ ہے، سراج الحق

بول نیوز  |  Aug 01, 2020

سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی جانب سے ایک اور خود کش حملہ ہے۔

گزشتہ روز پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر جماعت اسلامی خدمت کے میدان میں آگئی ہے۔

سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرادیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عوام پر ظلم کر رہی ہے اور ظلم سے نجات کے لئے جماعت اسلامی احتجاج کر رہی ہے۔

اس سے قبل حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا اس ضمن میں وزارت خزانہ سے اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں 3 روپے 86 پیسے اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ مٹی کا تیل 5 روپے 97 پیسے لائٹ ڈیزل 6 روپے 62 پیسے مہنگا کردیا گیا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہوزارت خزانہ سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 103 روپے 97 پیسے فی لیٹر کردی گئی جبکہ اب سے ہائی اسپیڈ ڈیزل 106 روپے 46 پیسے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔مٹی کا تیل 65 روپے 29 پیسے فی لیٹر ہوگا جبکہ لائٹ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 62 روپے 86 پیسے ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق وزارت خزانہ کی جانب سے قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔

یادرہے کہ اس سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے معاملے پر اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی سمری وزارت خزانہ کو بھجوا دی گئی تھی۔

اوگرا کی جانب سے بھیجی گئی سمری کے مطابق یکم اگست سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 روپے فی لیٹر سے زائد اضافے کی تجویز کی گئی تھی۔

سمری میں پٹرول کی قیمت میں 9 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے فی لیٹر اضاف جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 6 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ  پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی سمری پر وزارت خزانہ حتمی فیصلہ کرے گی جبکہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اگست رات بارہ بجے سے ہوگا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More