کشمیری عوام بھارت کے فیصلوں سے ذلیل و خوار ہورہے ہیں ، وادی کشمیر میں بہت خوف و ہراس پایا جاتا ہے،سابق بھارتی کشمیر ثالث کار رادھا کمار کا انٹرویو میں اظہار

اے پی پی  |  Aug 02, 2020

انقرہ ۔ 2 اگست (اے پی پی) مقبوضہ جموں وکشمیر کے لئے بھارتی حکومت کی سابقہ ثالث کار رادھا کمار نے کہا ہے کہ کشمیری عوام گذشتہ سال 5 اگست کے بعد سے بھارت کے فیصلوں سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ، جس میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا اور علاقے کو دو زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنا شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں بہت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ترکی کے خبر رساں ادارے اناڈولو ایجنسی کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ،رادھا کمار نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاﺅن کے ایک سال گزرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں زمینی صورتحال بہت خراب ہے، جموں و کشمیر میں ہمارے گروپ فورم برائے ہیومن رائٹس نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی جس نے موجودہ صورتحال کو واضح کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں آپ کو بتا سکتی ہوں کہ وہاں صورتحال بہت خراب ہے، گذشتہ سالوں کے مقابلے میں گذشتہ سال 5 اگست کے بعد سے وہاں صورتحال مزید خراب ہوگئی ہے۔تاہم اب وہاں ٹیلیفون خدمات بحال ہوئیں ہیں اور اخبارات کام کر رہے ہیں لیکن یہ بہت چھوٹی تبدیلیاں ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس وقت تک تحریک آزادی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں جب تک کہ امن مذاکرات کا انتخاب نہیں کیا جاتا۔ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی حکومت کے اس دلائل سے کہ خصوصی حیثیت کی منسوخی سے ترقی میں تیزی آئے گی اور تحریک آزادی کا خاتمہ ہوگا ،ایسا نہیں ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں بھارتی حکومت کے( غاصبانہ ) اقدامات سے کوئی بنیادی پیش رفت نہیں ہوئی اور تحریک ابھی بھی بدستور موجود ہے البتہ وہاں ایک سال سے جاری سخت پابندیوں کی وجہ سے تحریک کی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے جو کسی وقت بھی دوبارہ تیز ہو سکتی ہیں۔انہوںرادھا نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہماری رپورٹ کے مطابق ترقی قریب قریب رک چکی ہے، درحقیقت جموں و کشمیر میں صنعت کو جو نقصان ہوا وہ بہت زیادہ ہے۔اس سوال کہ اس وقت ، خطے میں سیاست جمود کا شکار ہوگئی ہے ، یہاں تک کہ روایتی ہندوستان نواز سیاست دانوں نے بھی غیر فعال رہنے کا انتخاب کیا ہے۔ کیا آپ کو سیاسی اقدامات کی بحالی کی کوئی گنجائش نظر آرہی ہے کے جواب میں انھوں نے کہاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں سیاست زیادہ تر ہندوستان نواز ہے ،سیاسی خلا کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے قدم کے طور فور جی سروسز کی بحالی ، تمام کشمیری سیاسی رہنماو¿ں جو تاحال نظربند ہیں کی رہائی اور پرامن اختلاف رائے کی اجازت دینا ہو گی، پھر ریاست کی بحالی، انتخابات کا انعقاد اور نئی دہلی اور منتخب نمائندوں کے درمیان بات چیت کا آغاز ہوسکتا ہے۔انہوں نے اس سوال کہ جب آپ لوگوں نے مقبوضہ کشمیر میں لوگوں سے بات کی تو عام پریشانی کیا تھی کے جواب میں کہا کہ جتنے بھی لوگوں سے ہم نے بات کی ہے ، وہ ہندوستانی حکومت کے فیصلوں سے انتہائی تذلیل محسوس کر رہے ہیں، وادی کشمیر میں بہت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لیے ڈومیسائل قانون بارے ایک سوال کے جواب میں رادھا کمار نے کہا کہ ہم نے اپنی رپورٹ میں ان تمام اقدامات پر شدید تنقید کی ہے۔ بہت بڑی قسم کی آبادیاتی تبدیلیمیں عام طور پر سینکڑوں سال لگتے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں کہ آپ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لئے بات چیت کرنے والوں کے ایک گروپ کا حصہ تھیں۔ آپ کا تجربہ کیا تھا کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارا تجربہ سخت پریشان کن تھا ، جس سے ہمیں شدید خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑا۔ ثالثوں کی حیثیت سے ، ہمیں بھی کئی اور رکاوٹیں کھڑی کرنا پڑیں،اس وقت کی حزب اختلاف میں بی جے پی ہم پر تنقید کرنے اور سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کی انتظامیہ پر دباو¿ ڈالنے کا کوئی موقع نہیں گنوا تی تھی، ہمیں متعدد انتظامی اور پالیسی ساز محکموں کے ساتھ سر کھپانا پڑتا تھا۔تاہم ہماری اصلاحات کی بنیاد پر کچھ اصلاحات عمل میں لائی گئیں۔ مثال کے طور پر ، کچھ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لئے عام معافی ، پاسپورٹ جاری کرنے کے عمل میں بہتری ، پُر ہجوم شہری علاقوں میں چیک پوسٹوں اور بنکروں کی برطرفی ، ترقی اور روزگار کی امداد میں اضافہ ، وغیرہ۔لیکن ہماری بڑی سیاسی سفارشات پر کوئی عمل نہیں ہوا ، جزوی طور پر ، مجھے یقین ہے ، کشمیر کا مسئلہ سہ رخی ٹریک پر چلتے ہوئے حل کیا جا سکتا ہے جس میں پاکستان ،ہندوستان اور کشمیری شامل ہوں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More