بھارت کی آئینی جارحیت کا ایک سال

روزنامہ اوصاف  |  Aug 04, 2020

 بھارت کی طرف سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیر میں رائے شماری کرانے کے مطالبات نظر انداز کرنے اور کشمیریوں کے حقوق پر آئینی شب خون مارنے کا ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔اب ہزاروں کی تعداد میں بھارتی شہری جن میں اکثریت انتہا پسند فورسز کی ہے، مقبوضہ ریاست میں زمینیں اور جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ بھارتی شہریوں کو سرمایہ کاری کی آڑ میں اراضی دی جا رہی ہے۔ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل اسناد دی جا رہی ہیں۔آزادی پسندوں ہی نہیں بلکہ بھارت نواز کشمیریوں پر سخت اور جبری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ایک سال قبل 5گست2019ء کو بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت نے یو این سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیںمسترد کر دیااور ٹرمپ کے ایک شاطرانہ ٹریپ کے طور پر امریکی ثالثی کی مسلسل کئی  پیشکشوں کے بعد بالآخر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر دی۔ مقبوضہ ریاست کی بھارت کے ساتھ نام نہاد اور مشروط الحاق کی آرٹیکل 370اور 35اے جیسی بنیاد مٹا دی۔ مقبوضہ ریاست کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو اپنی مرکزی حکومت کے زیر انتظام فاٹا جیسے علاقے بنا دیا۔کشمیر کو کالونی کا درجہ دینے کا یہ فارمولہ گو کہ بی جے پی کے الیکشن منشور میں درج تھا مگراس پر عمل در آمد وزیراعظم عمران خان کی صدر ٹرمپ سے کامیاب قرار دی گئی دوستانہ ملاقات کے بعد ہنگامی طور پر کیا گیا۔ کشمیریوں کی مرضی کے خلاف ان پر بھارتی قوانین نافذ کر دیئے گئے۔ پہلے بھارت کا کوئی بھی قانون مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی منظوری کے بغیر قطعاً نافذ العمل نہ ہو سکتا تھا۔ اب بھارتی قوانین یک دم نافذ ہو رہے ہیں۔سرکاری تنصیبات سے کشمیر کا پرچم اتار دیاگیا۔مقبوضہ ریاست میں بھارتی ترنگے لہرا دیئے گئے۔ یہ سب  ڈرامہ پہلے گورنر اور پھر صدارتی راج کے دوران رچایا گیا۔ بھارت کی اس وقت 29ریاستیں اور سات مرکز کے کنٹرول والے علاقے ہیں۔ 29ریاستوں میں مقبوضہ جموں وکشمیر بھی شامل تھی۔ اب بھارت نے مقبوضہ جمو ں و کشمیر کو دہلی اور پانڈو چری جیسا مرکزی انتظام والا علاقہ بنا دیا جس کی قانون ساز اسمبلی ہو گی ۔ مگر اسے آئین سازی کا اختیار حاصل نہ ہو گا۔ سٹیٹ اور یونین علاقے میں کافی فرق ہے۔ سٹیٹ ایک آزاد یونٹ ہوتا ہے۔ جس کی اپنی اسمبلی اور حکومت ہو۔ جس کا وزیراعلیٰ ہو۔ سلامتی، صحت عامہ، گورننس ، ریونیو وغیرہ کا وہ خود ذمہ دار ہو۔ یونین علاقہ پر بھارت کی سنٹرل حکومت کا کنٹرول ہوتا ہے۔ جس کا ایڈمنسٹریٹر لیفٹیننٹ گورنر ہوتا ہے۔ جو سنٹرل حکومت کا مقررکردہ اورصدر ہند کا نمائندہ ہوتا ہے۔ یونین علاقوں کی بھارت کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں کوئی نمائندگی نہیں ہوتی۔ تا ہم دہلی اور پانڈو چری کی نمائندگی ہے۔ تعلیم اور میونسپل معاملات چیف منسٹر دیکھتا ہے اور سلامتی سمیت دیگر امور لیفٹیننٹ گورنر کی سفارش پر مرکزی حکومت دیکھتی ہے۔ سٹیٹ کا اپنا ایڈمنسٹریٹو یونٹ ہوتا ہے جس کی اپنی منتخب حکومت ہوتی ہے۔ یونین علاقہ کو سنٹرل حکومت کنٹرول کرتی ہے اور انتظام چلاتی ہے۔ سٹیٹ کا ایگزیکٹو سربراہ گورنر اور یونین کا صدر ہوتا ہے۔ سٹیٹ کو اٹانومی حاصل ہوتی ہے مگر یونین کو یہ خودمختاری حاصل نہیں۔ بھارت نے دہلی کی طرح اب مقبوضہ جموں و کشمیر کے اختیارات چیف منسٹر اور گورنر کے درمیان تقسیم کر دیئے۔  اب بھارتی آئین مقبوضہ جموں و کشمیر پر من و عن نافذ العمل ہو گا۔ مقبوضہ جمو ںو کشمیر میں صرف بھارت کا پرچم لہرائے گا۔ بھارت کی حکومت کی جانب سے اپنے آئین میں مقبوضہ جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کے خاتمے پر بڑے زور و شور سے بحث و مباحثہ جاری  رہاہے۔ بھارت کی ناگالینڈ، میزورم، سکم، ارونا چل پردیش، آسام، منی پور، آندھرا پردیش، گوا جیسی ریاستوں کو آئین کی دفعہ 371کی زیلی سیکشن اے، سی، جی کی مختلف شقوں کے تحت خصوصی پوزیشن حاصل ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی وجہ سے آج تک بھارت آبادی کے تناسب کو تبدیل نہ کر سکا اور جموں و کشمیر کی سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے تحت شناخت قائم رہی۔ بھارت عدلیہ کی مدد سے ایسا چاہتا تھا۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک درخواست دائر کی گئی۔ جس میں عدالت سے بھارتی آئین کی دفعہ 35اے ختم کراناتھی۔ اس کے خلاف مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ہڑتالیں اور مظاہرے ہو ئے۔ احتجاج میں جموں خطے کے عوام بھی شامل ہو گئے ۔ جموں کی بار ایسو سی ایشنز بھی میدان میں آئیں۔ عوام کو خدشہ تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ اس بار بھی عوام کی تسکین کے لئے فیصلہ کشمیر کے بجائے بھارتی عوام کے مفاد میں کر ے گی۔ ایسا اس نے پہلے بھی کیا ہے کہ جب بھارتی عوام کی خواہش کے مطابق انصاف کے تقاضوں کے برعکس فیصلہ کیا گیا۔        ( جاری ہے )
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More