آئی پی ايل سے چینی اسپانسر باہر نکالو، بھارتی مظاہرين کا مطالبہ

ڈی ڈبلیو اردو  |  Aug 04, 2020

بھارت ميں انڈيئن پريميئر ليگ میں چینی اسپانسرز کی شمولیت کی مخالفت ميں منگل کے روز مظاہرے کيے گئے۔ يہ پيش رفت آئی پی ايل کے انعقاد کے حتمی فيصلے کی خبريں سامنے آنے کے بعد ديکھی گئی۔ مظاہرين اس بات پر نالاں ہيں کہ ٹورنامنٹ کے چينی اسپانسر کو ابھی تک کيوں خارج نہيں کيا گيا۔

گزشتہ روز ہی آئی پی ايل کی گورننگ کونسل نے اس بات کی تصديق کی کہ ليگ رواں سال انيس ستمبر تا دس نومبر تک متحدہ عرب امارات ميں کھيلی جائے گی۔ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے تمام تر ميچز دبئی ميں منعقد ہوں گے۔ آئی پی ايل ٹورنامنٹ انتيس مارچ سے شروع ہونا تھا تاہم کووڈ انيس کی عالمی وبا کے تناظر ميں اسے ملتوی کر ديا گيا تھا۔

آئی پی ايل کے مداحوں کے ليے اچھی خبر

ورلڈ کپ ميں کون کھيلے گا، فيصلہ اب سُپر لیگ میں ہوگا

چين اور بھارت کے مابين لداخ کے سرحدی علاقے ميں کشيدگی اور ايک جھڑپ ميں بيس بھارتی فوجيوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی عوام نے آئی پی ايل ميں چينی اسپانسر پر احتجاج کيا۔ يہ معاملہ جون کے وسط ميں اپنے عروج پر تھا، جب ايک قوم پرست گروپ نے ٹورنامنٹ کے بائيکاٹ کی بھی دھمکی دے دی تھی۔ پندرہ جون کو آئی پی ال کی انتظاميہ نے يہ کہا تھا کہ چينی اسپانسر کے معاملے پر نظر ثانی کی جائے گی۔ تاہم پير کو ٹورنامنٹ کی تاريخوں کا اعلان کيا گيا، تو چينی اسپانسر کے اخراج کے بارے ميں کوئی خبر نہ تھی۔ اسی پر بھارتی عوام احتجاجاً سڑکوں پر نکلے۔

يہ امر اہم ہے کہ VIVO نامی فون ميکر آئی پی ايل کا ٹائٹل اسپانسر ہے۔ اس چينی کمپنی نے اشتہاری مہمات کی سن 2022 تک کی ڈيل کے ليے 330 ملين ڈالر پہلے ہی ادا کر رکھے ہيں۔

ہندو قوم پرست دھڑے آر ايس ايس کے ثقافتی ونگ سواديشی جگران مانچ کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر چينی اسپانسر کو ہٹايا نہ گيا، تو ٹورنامنٹ کا بائيکاٹ کر ديا جائے گا۔ تنظيم کی جانب سے جاری کردہ بيان ميں کہا گيا ہے کہ ملک کی شان و سلامتی سب سے پہلے آتی ہے۔

آئی پی ايل کی جانب سے ان تازہ مظاہروں پر فی الحال کوئی رد عمل سامنے نہيں آيا مگر کونسل کے ارکان ذرائع ابلاغ پر بات چيت کے دوران يہ اشارہ دے چکے ہيں کہ قانونی پيچيدگيوں کے باعث اس موقع پر اسپانسر کا نام خارج کرنا کافی پيچيدہ ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More