سانحہ آرمی پبلک اسکول کے ذمہ داروں کو چھوڑا نہیں جائے گا: سپریم کورٹ

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 04, 2020

اسلام آباد — سپریم کورٹ آف پاکستان میں سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس، جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سانحہ اے پی ایس کے ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے اور ذمہ داران افراد کے ساتھ قانون کے مطابق نمٹیں گے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سانحہ آرمی پبلک اسکول از خود نوٹس کی سماعت کی۔ آرمی پبلک اسکول میں ہلاک ہونے والے چند بچوں کے والدین بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

بچوں کے والدین نے مطالبہ کیا کہ انہیں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ دی جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول کی تحقیقات کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد ابراہیم خان کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن نے اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی ہے۔

جب سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ اٹارنی جنرل کمیشن کی رپورٹ پر حکومت سے ہدایت لے کر آگاہ کریں۔

ہمارے بچے محفوظ نہیں: والدین

سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران ایک بچے کی والدہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہمارے بچے محفوظ نہیں ہیں۔ ہم پاکستان میں نہیں رہ سکتے۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم حق اور انصاف کی بات کریں گے۔

والدین نے ذمہ داروں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا تو جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کمیشن ذمہ داروں کو سزا دلوانے کے لیے ہی بنایا گیا تھا، عدلیہ پر اعتماد کریں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو آئین اور قانون اجازت دے گا، وہ کریں گے۔ کمیشن کی سفارشات کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ انہیں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کے ساتھ ہمدردی ہے۔ آپ کے ساتھ جو بھی ہوا بہت غلط ہوا۔ ایسا کسی صورت بھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ہم یہاں انصاف کرنے کے لیے ہی بیٹھے ہیں۔

چیف جسٹس نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سامنے حقائق آ گئے ہیں۔ جن کی کوتاہی ہے ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔

والدین نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کی استدعا کی تو عدالت نے مسترد کر دی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ خفیہ رپورٹ ہے۔ جو ابھی ہم اٹارنی جنرل کو فراہم کر رہے ہیں۔ ابھی اٹارنی جنرل رپورٹ پڑھیں گے پھر آپ کو بھی مل جائے گی۔ انہوں نے کمیشن بنایا، اس کی سفارشات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ جس کے بعد کیس کی سماعت 4 ہفتوں تک ملتوی کر دی گئی۔

والدین کیا چاہتے ہیں؟

اے پی ایس سانحے میں ہلاک ہونے والے ایک بچے اسفند خان کی والدہ شاہانہ اجون خان نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انصاف میں تاخیر انصاف کا قتل ہے۔ اس واقعہ کے ذمہ داران کو چھ سال گزرنے کے بعد بھی اب تک سامنے کیوں نہیں لایا جا رہا۔

شاہانہ اجون خان کا کہنا تھا کہ کمیشن کو کام کرنے کے لیے چھ ماہ کا وقت دیا گیا لیکن اسے اتنا عرصہ لگ گیا۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ رپورٹ انتہائی حساس ہے اور اس میں ایسے لوگوں کے نام شامل ہیں جو پس پردہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم وہ والدین نہیں جو اپنے بچوں کو بھول جائیں گے۔ وہ آخری حد تک جائیں گے۔ وہ بار بار سپریم کورٹ آئیں گے۔ وہ یہ بھی پوچھیں گے کہ تحریک طالبان پاکستان کے لیڈر احسان اللہ احسان کو کیوں مہمان بنایا گیا اور پھر پتا چلا کہ وہ فرار ہو گیا۔ ہم اس کا جواب بھی مانگیں گے۔ ہم یہ بھی پوچھیں گے کہ کمیشن کی رپورٹ میں تاخیر کیوں کی گئی۔

آج کی سماعت سے متعلق شاہانہ اجون خان نے بتایا کہ ہم نے عدالت کو کہا کہ ہمیں صرف انصاف چاہیے۔ کمیشن کی رپورٹ میں جن لوگوں کے بھی نام شامل ہیں یا جن لوگوں کی کوتاہی سامنے آئی ہے، ان کے خلاف ضرور کارروائی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عدالت سے کمیشن کی رپورٹ مانگی جو فراہم نہیں کی گئی۔ لیکن عدالت نے یقین دہانی کرائی کہ انصاف ہو گا۔

واقعہ میں ہلاک ہونے والے ایک اور بچے عمر خان کے والد فضل خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ سامنے لائی جائے۔ چھ سال ہو گئے، آج تک انصاف نہیں ملا۔ وہ در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ دو سال دو مہینے تک کمیشن کی کارروائی چلی۔ اب رپورٹ آ گئی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ میں ذمہ داروں کا تعین کیا گیا ہے، یا سانحہ میں براہ راست ملوث یا سہولت کاروں کے متعلق کچھ بتایا گیا ہو گا، اس کو عوام کے سامنے آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سانحہ کے وقت کے آرمی چیف سے لے کر موجودہ آرمی چیف، اس کے وقت کے وزیراعظم سے لے کر موجودہ وزیراعظم، اسی طرح تمام وزرائے اعلی نے ہم سے وعدے کیے، لیکن ایک بھی وفا نہ ہوا۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعد بھی ہمیں کچھ زیادہ توقع نہیں کیونکہ پاکستان میں آج تک جتنے بھی کمیشن بنے ان پر کچھ نہیں ہوا۔

حکومت کیا کہتی ہے؟

ڈپٹی اٹارنی جنرل سہیل محمود کے مطابق کمیشن کی رپورٹ اٹارنی جنرل کو فراہم کر دی گئی ہے۔ عدالت نے حکومت سے ہدایات لینے کے لیے چار ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔

اس سے قبل حکومت کا کہنا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول

سولہ دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں 132 بچے، 17 اساتذہ اور سٹاف ممبران ہلاک ہو ئے تھے۔ حملہ آوروں کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کا تعلق 'کالعدم تحریک طالبان' سے تھا۔ جنہیں کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔ جب کہ ان کے سہولت کاروں کو بھی فوجی عدالتوں سے سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

سانحہ کے بعد پاکستان آرمی نے قبائلی علاقوں میں 'آپریشن ضرب عضب' شروع کیا تھا، جس میں پاک فضائیہ بھی شامل رہی۔ اپریل 2018 میں بچوں کے والدین نے انصاف کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو ان کی درخواست کو اس وقت کے چیف جسٹس نے از خود نوٹس میں تبدیل کر دیا تھا۔

کیس کی سماعت کے دوران بار بار والدین جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کرتے رہے اور اکتور 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار نے پشاور ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ دیا۔ جس نے اپنا کام مکمل کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ اس رپورٹ کے مندرجات اب تک سامنے نہیں آ سکے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More