بیروت دھماکا: لبنان میں سیاسی عدم استحکام، وزیراطلاعات بھی مستعفی

سماء نیوز  |  Aug 09, 2020

فوٹو: اے ایف پی

بيروت میں دھماکے کے بعد لبنان میں فوج نے اہم عمارتوں پر قبضہ تو چھڑا ليا ليکن وزيراطلاعات نے واقعے کے بعد استعفیٰ دے ديا۔

وزير خارجہ ناصيف حتی کے بعد وزيراطلاعات منال عبدالصمد نے بھی استعفیٰ دے ديا جبکہ امريکا نے پرامن مظاہرے کی حمايت کر دی ہے۔

سابق وزير خارجہ کے مطابق لبنان ناکام رياست کی راہ پر چل پڑا ہے اس ليے وہ ملک کو بحران سے نکالنے ميں ناکامی پر استعفیٰ دے رہے ہيں۔

دوسری جانب لبنانی فوج نے تين گھنٹے کی جدوجہد کے بعد وزارتِ خارجہ، وزارتِ اقتصاديات، وزارتِ توانائی اور بينکس ايسوی ايشن کے ہيڈکوارٹر کی عمارتوں کو مظاہرين سے خالی کرا ليا۔

ريٹائرڈ فوجی افسران کی سربراہی ميں مظاہرين کے گروپ نے وزارتِ خارجہ کی عمارت پر قبضہ کرکے اسے انقلابی تحريک کا صدر دفتر قرار ديا تھا۔

مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، پیٹرول بم پھینکے، گاڑياں اور املاک نذرآتش کيں۔ فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔ مظاہرین جب پارلیمںٹ ہاؤس کی جانب بڑھے تو فورسز نے ان پر براہِ راست گولی چلائی۔

پوليس اہلکاروں سميت سيکڑوں مظاہرين زخمی ہوئے۔ پورے بيروت ميں فوج کو تعينات کرديا گيا ہے جہاں وہ مشين گنوں سے ليس گاڑيوں ميں شہر کا گشت کر رہے ہيں۔

لبنان کے وزيراعظم حسن دياب نے قبل از وقت انتخابات کو بحران سے نکلنے کا واحد حل قرار ديا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More