دوسرا ٹیسٹ: فواد عالم گیارہ سال بعد دوبارہ ٹیم میں شامل

ہم نیوز  |  Aug 13, 2020

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ میں فواد عالم کو دوبارہ ٹیم میں شامل کر لیا گیا۔

دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیمیں دوسرے ٹیسٹ میچ میں آج  ساؤتھمپٹن میں مدمقابل ہیں۔ قومی کرکٹ ٹیم کے باؤلنگ کوچ وقار یونس سیریز میں کم بیک کرنے کے لیے پرامید ہیں۔

انگلینڈ کو تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو تین وکٹوں سے شکست ہوئی تھی۔

پہلے ٹیسٹ میچ میں جب پاکستانی باؤلنگ اٹیک کے سامنے انگلش ٹاپ آرڈر بے بس تھا اس وقت انگلینڈ کے جوز بٹلر ٹیم کے مردِ بحران ثابت ہوئے۔ انہوں نے پچھہتر رنز بنا کر اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔

میزبان ٹیم انگلینڈ کی جانب سے کرس ووکس نے بھی شاندار کار کردگی دکھائی اور مین آف دی میچ ٹھہرے۔ انہوں نے ناٹ آؤٹ چوراسی رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔

پہلی اننگز کے دوران پاکستان نے بیٹنگ اور بالنگ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس کے باعث 326 رنز کے جواب میں انگلینڈ کی ٹیم 219 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔

قومی ٹیم نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز 107 رنز کی برتری پر کیا تھا لیکن بلے بازی کے شعبے میں زیادہ نمایاں کارکردگی نہیں دکھا پائی۔

انگلینڈ کو دوسری اننگز میں جیت کیلئے277 رنز درکار تھے۔ میزبان ٹیم نے جب دوسری اننگز شروع کی تو اس کو پاکستانی بالرز کا سامنا کرنے میں کا مشکل پیش آئی۔

یہ بھی پڑھیں: 

دوسری اننگز میں پاکستانی بالرز نے ایک بار پھر شاندار کارکردگی دکھائی اور کم ہدف ہونے کے باوجود انگلینڈ کے سات کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کے بعد میچ کافی حد تک قومی ٹیم کے ہاتھ میں تھا اور پاکستانی باؤلنگ اٹیک کے سامنے انگلش ٹاپ آرڈر بے بس نظر آرہا تھا۔ انگلینڈ کی جانب سے بٹلر اور ووکس کی شاندار اننگز نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا جس نے حریف ٹیم کو فتح دلائی۔

پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے لیے 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا تھا۔ جس میں کپتان اظہرعلی، نائب کپتان بابراعظم، عابد علی اور اسد شفیق شامل ہیں۔ شان مسعود، فواد عالم، امام الحق، محمد عباس، محمد رضوان اور سرفراز احمد بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں۔  شاداب خان، نسیم شاہ، سہیل خان، شاہین شاہ آفریدی، یاسرشاہ اور سہیل بھٹی بھی اسکواڈ میں شامل ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More