مریم نواز کا ہنگامہ، پس منظر، پیش منظر!

روزنامہ اوصاف  |  Aug 13, 2020

٭لاہور، مریم نواز پھر میدان میں، نیب آفس کے باہر پولیس تصادم، متعدد زخمی، گرفتاریاں مقدمےO ’’مجھے مارنے کے لئے پتھرائو کیا گیا‘‘ مریم! ’گاڑیوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے‘ حکومتO نوازشریف نے لندن سے تمام واقعات کو کنٹرول کیاO سپریم کورٹ کا حکم، کراچی میں ایک لمحہ بھی لوڈ شیڈنگ نہ ہو! لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہو گیاO پاک فوج، کور کمانڈرز کا اجلاس، اہم فیصلےO پنجاب پولیس: نئی وردیاں 94 کروڑ روپے جاری،88 کروڑ کی پہلی وردیاں ضائع O سٹاک مارکیٹ میں تیزیO 15 لاکھ ٹن گندم درآمد، ٹیکس، ڈیوٹی فریO وزیراعلیٰ پنجاب اکیلے نیب میں، شہباز شریف کا بھی اکیلے جانے کا اعلانO پشاور، تیز بس منصوبہ، بسیں چل پڑیںO روس نے کرونا ویکسین تیار کر لی، صدر پیوٹن۔٭لاہور میں مریم نواز نے چھ ماہ کی خاموشی توڑی، جلوس کے ساتھ نیب آفس گئیں۔ جلوس نے نیب کے اندر جانے کی کوشش کی۔ پولیس نے روکا، تصادم شروع ہو گیا۔ پتھرائو، لاٹھی چارج، آنسو گیس، متعدد افراد زخمی، 58 لیگی کارکن گرفتارجیل بھیج دیا گیا۔ مریم نواز کی بُلٹ پروف گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ ہنگامے کے پیش نیب نے مریم نواز کی پیشی منسوخ کر دی۔ مریم اور حکومتی وزرا کی طرف سے ایک دوسرے پر سخت الزامات! مریم نے جانے سے پہلے اور واپسی پر لندن سے نوازشریف سے ہدایات لیں۔ شہبازشریف، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف ان سارے واقعات سے الگ رہے۔٭قارئین کرام! یہ مختصر باتیں ہیں۔ تفصیلات اخبارات میں موجود ہیں۔ میں 53 سالہ صحافت میں بار بار یہ کھیل تماشے دیکھتا رہا ہوں۔ وہی پولیس، وہی اپوزیشن کی کارروائیاں، تصادم، آنسو گیس، پتھرائو، فائرنگ لاٹھی چارج، گرفتاریاں، حتیٰ کہ جعلی جنازے!! وہی واقعات جو 1967ء میں ایوب خاں کے دور میں، پھر ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ضیاء الحق اور دوسری حکومتوں کے خلاف مظاہرے، ہنگامے! ہر بار ہنگاموں کی ایک ہی کیفیت، صرف چہرے اور کردار بدل جاتے ہیں۔ اپوزیشن کے اتحاد بنتے ہیں۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے خلاف جنگ جوئی پر اتر آتے ہیں۔ مسلم لیگ پیپلزپارٹی کے خلاف، پیپلزپارٹی مسلم لیگ کے خلاف، دونوں کسی تیسری پارٹی کے خلاف! مسلسل ڈرامے، گرفتاریاں، جیلوں میں اے کلاس کے مہمان، لاکھوں کروڑوں اجڑ جاتے ہیں۔ وزیراعظم گرفتار ہوتے ہیں۔ پھانسی، ملک بدری اور دوسرے کھیل تماشے! اس وقت ایک سابق آمر صدر دبئی میں، ایک سابق وزیراعظم لندن میں بستروں پر! ایک سابق صدر وہیل چیئر پر! جسم مفلوج ہو چکے ہیں، ٹانگیں جواب دے رہی ہیں۔ مگر پھر سے حکمرانی کے خواب جاری ہیں۔ برسوں سے مقدمات کے ڈرامے چل رہے ہیں۔ میرے سامنے لاہور کی مال روڈ کے مرکزی ریگل چوک میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر رابعہ قادری کی زیر سرکردگی ضیاء الحق کے خلاف وکلا کا ایک جلوس ریگل چوک پہنچا، پولیس نے شدید لاٹھی چارج کیا۔ ایک لاٹھی رابعہ قادری کو لگی بے ہوش ہو کر گر گئیں اور انتقال کر گئیں۔ اس ملک میں کراچی میں بے نظیر بھٹو کے جلوس پر بم پھینکے گئے، 150 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ اسی روز کراچی میں ہی کچھ دور ایم کیو ایم نے بے نظیر بھٹو کے خلاف جلوس نکالا۔ ظالم جابر جنرل پرویز مشرف نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں کھڑے ہو کر بے نظیر بھٹو پر بم حملے کے بارے میں ایم کیو ایم کی ’کارکردگی‘ پر اظہار تحسین کرتے ہوئے کہا کہ ’’دیکھ لی عوامی قوت؟۔٭محترم قارئین! مریم نواز کی کچھ باتوں سے پہلے میں ایک چشم دید واقعہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ پرانی بات ہے، پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس اور گورنمنٹ کالج کے طلبا نے مل کر حکومت کے خلاف جلوس نکالا۔ یونیورسٹی کے سامنے جلوس تیار ہو گیا تو آئی جی پولیس میاں بشیر احمد خود آ پہنچے۔طلبا کے سامنے دیوار کی شکل میں کھڑی پولیس کو دور تک ہٹ جانے اور سڑک کے کناروں پر کھڑے رہنے کی ہدایت کی۔ اور اکیلے طلبا کے جلوس کی طرف پڑے۔ جلوس کے لیڈروں سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ انہوں نے بتایا کہ فلاں مسئلے پر احتجاج کے لئے گورنر ہائوس (تقریباً دو کلو میٹر) جانا ہے۔ آئی جی بولے، ’’بیٹو! تم میرے بچے ہو، میں تمہارا باپ ہوں، میں تمہارے ساتھ چلوں گا، پولیس تمہاری حفاظت کرے گی، بس یہ دیکھنا کہ کوئی توڑ پھوڑ نہیں کرنی، کوئی بتی نہیں توڑنی، جو جی چاہے نعرے لگائو مگر پولیس کے ساتھ نہ اُلجھنا! آئو چلیں!‘‘ آئی جی جلوس کے قائد بن کر آگے چلنے لگے تو طلبا کے ایک مرکزی لیڈر نے ان سے کہا کہ آپ نے ہمارا سارا پروگرام خراب کر دیا ہے۔ ہم تو پولیس کے ساتھ تصادم کے امکان کی تیاری کر کے آئے تھے۔ اب کیا فائدہ؟ آپ حکومت تک ہمارا احتجاج پہنچا دیں، ہم جلوس ختم کر رہے ہیں۔ آئی جی پولیس نے ان طلبا کو اپنے ساتھ لگایا، سروں پرہاتھ رکھا، مستقبل کی دعا دی اور کہا کہ کسی روز آپ کے ساتھ چائے پینے آئوں گا!اس واقعہ کو تقریباً 40 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ میری آنکھوں نے یہ خوش گوار حیرت انگیز دیکھا۔ ایک ایک لفظ یاد ہے۔ ایک آئی جی پولیس نے مشفق باپ بن کر بچوں کو سمجھایا، پولیس والوں نے بھی شکر ادا کیا۔ بچے واپس کلاسوں میں چلے گئے۔ مگر جن شدت پسند سیاسی عناصر نے اس پرتشدد پروگرام کا اہتمام کیا تھاوہ بعد میں طلبا پر برس پڑے! ٭اب میں لاہور میں مریم نواز کے واقعات کی طرف آتا ہوں۔اس وقت ن لیگ چار گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ان کی قیادت نوازشریف و مریم نواز، شہباز گروپ، خواجہ آصف گروپ اور ان کے سخت حریف شاہد خاقان عباسی گروپ کر رہے ہیں۔ (دونوں میں سخت ناراضی ہے، ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گوارا نہیں کرتے، بات چیت عرصے سے بند ہے) ان چار گروپوں کی الگ الگ سیاست ہے۔ مولانا فضل الرحمان ایک گروپ کو پکڑتے ہیں، دوسرا ہاتھ سے نکل جاتا ہے! مریم نواز اس وقت قائم مقام نوازشریف کے طور پر اپنا گروپ چلا رہی ہیں۔ ہر بات میں نوازشریف سے ہدایات لیتی ہیں۔ گزشتہ روزنوازشریف کے حکم پر پنجاب اسمبلی کے 27 اور قومی اسمبلی کے آٹھ ارکان نیب آفس کے باہر پہنچے جہاں مریم نواز بھی ایک جلوس کے ساتھ آئیں اس کے بعد جو کچھ ہوا، اخبارات میں تفصیل موجود ہے۔ ایک نئی بات البتہ سامنے آئی کہ ٹیلی ویژنوں پر دکھائی جانے والی تصویروں کے مطابق مریم نواز کی رہائش گاہ ’جاتی عمرا‘ میں مختلف گاڑیوں (جعلی نمبر) میں شاپر لفافوں میں پتھر بھرے گئے۔ یہ پتھر مبینہ طور پر ایک ایم پی اے جاوید مرزا لے کر آیا تھا۔ میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ مال روڈ تو بہت صاف ستھری سڑک ہے، اس پر مظاہرین کے پاس پتھر کہاں سے آ جاتے ہیں؟ اب یہ بات سامنے آ گئی ہے کہ یہ ’رسد‘ وہ ساتھ لے کر آتے ہیں۔ آج تک کبھی کسی نے چیک نہ کیا۔ دوسری بات! مریم نے کہا ہے کہ حکومت مجھے ہلاک کرنا چاہتی تھی، پولیس نے نہائت پرامن ہجوم پر پتھرائو کیا، ایک پتھر میری بلٹ پروف گاڑی کو لگا اور اس کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ قارئین جانتے ہیں کہ بلٹ پروف گاڑی پر بڑی گولیاں بھی کوئی اثر نہیں کر سکتیں، اور ایک بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ محض ایک پتھر کا ٹکڑا لگنے سے ٹوٹ گیا! قارئین خود تبصرہ کر لیں!!٭افسوس کہ سارا کالم ان فضولیات کی نذر ہو گیا اور بہت سی گفتنی، ناگفتی باتیں رہ گئیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے۔ میرے لئے یہ سب کچھ نیا نہیں، کسی کوبھی ملک کے ساتھ ہونے والے ’حادثات‘ و واقعات کے بارے میں کوئی تشویش، کوئی سوچ بچار کچھ نہیں۔ ملک کو بے دردی سے، وحشیانہ طور پر لوٹنے والے کوئی لندن، کوئی دبئی، امریکہ میں کھربوں کے اثاثوں پر بستر جمائے ہوئے ہیں جب کہ آخری آرام گاہ صرف ساڑھے چھ فٹ لمبی، ڈھائی فٹ چوڑی ہوتی ہے اور آخری دعا کے بعد سب اسے اکیلے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں!!٭میں سخت دل گرفتہ ہوں۔ 73 برس گزر گئے، وطن دو ٹکڑے ہو گیا، جو کچھ ہاتھ آیا اسے بھی انتہائی بے دردی کے ساتھ لوٹ لیا گیا، لوٹا جا رہا ہے! سر پر قیامت کھڑی ہے اور بیرون ملک مفلوج، معذور آخری سانس لینے والے سابق حکمرانوں کی پھر سے ملک پر سوار ہونے کی حرص اور ہوس ختم نہیں ہو رہی۔اللہ تعالیٰ اس ملک کا حامی و ناصر ہو!
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More