راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ مستقبل کے نئے منصوبہ سازوں کیلئے کئی دہائیوں تک ایک مثال ہوگا:عثمان بزدار

نوائے وقت  |  Sep 15, 2020

وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ تاریخی موقع ہے جب پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے کا خواب عملی تعبیر میں بدل رہا ہے اور وزیر اعظم عمران خان نے راوی ریور فرنٹ اربن پراجیکٹ  کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا ہے ـوہ آج کالا خطائی کے مقام پر راوی ریور فرنٹ اربن پراجیکٹ کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھےـ وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا کہ سابق حکومت ماضی میں نمائشی منصوبوں پر توجہ دیتی رہی ـ سات برس قبل اس منصوبے کا پلان پیش کیا گیا مگرماضی کے حکمران اس کوشروع نہ کرسکے کیونکہ انکی ترجیحات میں عوام کی حقیقی تبدیلی لانے والے منصوبے شامل ہی نہیں تھے ـانہوں نے کہا کہ آج لاہور کی پہچان بننے والا دریائے راوی گندے نالے میں بدل چکا ہے لیکن کسی کو اس کی فکر نہیں ـلاہور میں زیر زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی آ گئی ہے ـہم دریائے راوی کی گزر گاہ میں 46کلو میٹر جھیل بنائیںگے ـیہ ماحول دوست منصوبہ ہے ،یہاں لگائے جانے والے 60لاکھ سے زائد پودے ماحولیاتی آلودگی میں واضح کمی لائیںگےـپانی کیلئے بیراج اورویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ بنائے جائیںگےـجھیل میں بارشوں کا وہ پانی ذخیرہ کیا جائے گا جو اس سے قبل ضائع ہو جاتا تھاـ جھیل بننے سے نہ صرف دریا کا ایکو سسٹم بہتر ہوگا بلکہ زیر زمین پانی کا لیول بھی بحال ہوگاـ اس جھیل سے تقریباً ایک ارب لیٹر پانی زیر زمین جائے گا اور آبی بخارات کی صورت میں موسم کو خوشگوار بنانے کا سبب بنے گاـ46کلومیٹر طویل اور ہزاروں ایکڑ پر محیط راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں 12 مختلف سپیشلائزڈ سٹی بنائے جائیں گےـ  اس پراجیکٹ میں 90 فیصد میٹریل مقامی طو رپر تیار شدہ استعمال ہو گا جس سے مقامی صنعت کو فروغ ملے گا اورمعیشت کو فائدہ پہنچے گا اور روز گار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں گےـ راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ مستقبل کے نئے منصوبہ سازوں کیلئے کئی دہائیوں تک ایک مثال ہوگاـانہوں نے کہا کہ پراجیکٹ کے حوالے سے با اختیار اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے اور یہ اتھارٹی اپنے رولز اور ریگولیشن خود بنائے گی ـ  کوئی اس اتھارٹی میں مداخلت نہیں کر سکے گا ـ انہوں نے کہا کہ اگلے تین برس اس منصوبے پر تیزی سے کام کریں گے اور ایک نیاشہر آباد ہو گا.

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More