آلو

روزنامہ اوصاف  |  Sep 28, 2020

آئرلینڈ‘فلپائن‘پاکستان‘چین‘بنگلہ دیش‘بھارت اور تقریباً پوری دنیا میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر آلو کا اصلی وطن جنوبی امریکہ ہے۔ آلو سب سے پہلے جنوبی امریکہ میں کاشت کیا گیا۔ سولہویں صدی میں اسے یورپ میں متعارف کرایا گیا تھا۔ 1719ء میں آئرلینڈ میں اس کی کاشت کی گئی۔ سترھویں صدی میں آلو برصغیر میں کاشت کیا گیا۔مشنریوں نے انیسویں صدی میں امریکہ میں اسے متعارف کروایا۔ آلو مقدار اور معیار کے لحاظ سے دنیا میں دوسری تمام سبزیوں کی نسبت زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ اور تمام سبزیوں میں سر فہرست ہے۔آلو پورے سال کاشت کیا جاتا ہے۔ آلو زمین کے اندر پیدا ہونے والی سبزی ہے۔ آلو پودے کی جڑوں میں ہوتا ہے۔آلو انسانی زندگی میں اہم جزو بن چکا ہے۔ غذائیت سے بھی مالا مال ہے اس لئے غذائیت حاصل کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔آلو بہترین غذاؤں میں سے ہے۔ آلو میں فولاد‘کیلشیم‘پوٹاشیم اور فاسفورس کی بہت مقدار پائی جاتی ہے۔ آلو میں وٹامن اے‘بی اور سی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔سکروی کا مرضاس مرض میں آلو کا ملیدہ استعمال کرنے سے سکروی کے مرض سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔جھریاں اور داغ دھبےکچے اور کچلے آلو کا رس اور گودا جلد پر لگانے سے جھریاں اور بڑھتی عمر کے سبب پڑ جانے والے داغ دھبے دور ہو جاتے ہیں۔آلو کا جوسکچے آلو کا جوس گٹھیا کے مرض کے لئے بے حد مفید ہے۔ اس کے علاوہ آلو کا جوس معدے‘انتڑیوں اور جلد کے داغ دھبے دور کرنے میں بھی آزمودہ دوا ہے۔سوجن اور جوڑوں کا دردآلو کے رس سے مالش کرنے سے سوجن اور درد دور ہو جاتا ہے۔ لیکن اس جوس کو استعمال سے پہلے اتنا ابالا جائے کہ اس کا پانچواں حصہ بخارات بن کر اڑ جائے۔پھر اس میں تھوڑی سی مقدار میں گلیسرین شامل کرنی چاہیے۔ گلیسرین اسے محفوظ بنانے کا کام کرتا ہے۔ متاثرہ حصہ کو سینک کرنے کے بعد مذکورہ جوس کو طلاء (مالش کی دوا) کی طرح لگایا جائے۔ ہر تین گھنٹے بعد مالش کی جائے جب تک کہ سوجن اور درد دور نہ ہو جائے۔آلو کچی حالت میںآلو کی صنعتی تاثیر‘پوٹاشیم‘سلفر‘فاسفورس اور کلورین کی وجہ سے ہے۔لیکن یہ اجزاء اس وقت تک بر قرار رہتے ہیں جب تک کہ آلو کچی حالت میں رہتا ہے۔ آگ پر پکانے کی صورت میں یہ نامیاتی جوہر غیر نامیاتی جوہروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور ان کی افادیت بہت کم رہ جاتی ہے۔گنٹھیا کے علاج کے لئےآلو آدھا کلو اور نمک پچاس گرام۔ آلو تنور میں رکھ کر بھون لیے جائیں پھر انہیں نکال کر چھلکا اتار دیا جائے اور باریک ٹکڑے کرکے نمک چھڑک کر کھائے جائیں اور تقریباً یہ ایک ماہ تک مسلسل کھاتے رہیں۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More