صحت مند دماغ‘مگر کیس

روزنامہ اوصاف  |  Oct 17, 2020

یوگا ایک قدیم عمل جو ابتدائی زمانے سے ہی دنیا میں مقبول رہا ہے۔دماغی کنٹرول کے ذریعہ اپنے نفس کی توجہ حاصل کرنے کے لئے متعدد انداز اور پوزیشنوں کیساتھ بنیادی مقصد حاصل ہوتا ہے مغربی دنیا میں 1980ء میں یوگا نے شہرت حاصل کر لی تھی۔سائنس ان سست حرکت پھیلاؤ اور جسمانی پوزیشنوں کے فائدہ مند اثرات پر تحقیق کر رہی ہے جو جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ نفسیاتی طور پر بھی مددگار ثابت ہوئے ہیں۔یہ نہ صرف بیرونی بلکہ اندرونی طور پر بھی افاقہ کرتا ہے۔آٹزم یا ارتکاز کی مشقیں یہ جدید دنیا کی انسانی نسلوں کی مصروف زندگیوں میں صحت بخش خوشیوں و مسرتوں سے سجے تحائف کی صورت میں پہچانا جاتا ہے۔کینسر‘افسردگی‘سانس کی خرابی‘دل کی بیماریوں‘عمل انہضام کے مسائل‘گنٹھیا‘ہڈی اور پٹھوں کی کمزوریوں کو علاج معالجہ اب یوگا کی صورت میں ایک مضبوط سہارا ایک مضبوط ملا ہے۔یوگا کی بڑھتی ہوئی اہمیت اس کے متنوع معالجاتی اثرات کی وجہ سے ہے یہ لمبے عرصے سے بگڑے جسم کی سختی کی وجہ سے پہلے تو تکلیف دہ ہیں لیکن آہستہ آہستہ لچک کو بڑھاتا جاتا ہے پھر دماغ اور جسم پر قابو رکھنے کی ایک شخص کی قابلیت میں توسیع کو کسی بھی قسم کی تکلیف کے بغیر حاصل کیا جاتا ہے بلکہ اس سے کمر کے درد اور دیگر اقسام کے درد سے لڑنے میں مدد ملتی ہے۔جس کے ساتھ زیادہ تر لوگ فی الحال عام طور پر نمٹ رہے ہیں خون کی گردش کی اعلیٰ سطح کے ساتھ یہ جسمانی ورزش دماغ کی تیز رفتار سرگرمی میں مدد کرتی ہے۔جس کے بعد اردگرد کے بارے میں بہتر آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ذہن پر قابو کیوں ضروری ہے؟دماغ پر قابو پانا ایک سنگ میل ہے۔جس کی تمام نفسیاتی کتابوں میں بہت زیادہ تاکید کی جاتی ہے۔جو ہماری نفسیاتی جہتوں کو بڑھا کر ہماری زندگی کو تبدیلی کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے نفسیات اور ذہنی افعال پر قابو پانے کے لئے ہر شخص مختلف کوششوں میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔صرف یہ ذہن خدا کی دیگر مخلوقات(خواہ وہ جاندار ہوں یا بے جان)پر غور و حوض کرنے اور ان پر غلبہ یا دسترس حاصل کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے جبکہ یکسوئی کی مشقوں یا یوگا کی مدد سے انسان اپنے جسم پر قابو بھی پا سکتا ہے جیسے کہ محض گہری سانس لے کر‘پورے اندرونی اور بیرونی وجود سے پاکر اپنے پورے وجود کو اپنی رُو کے مطابق چلانا اس کی واضح مثال ہے۔ذہن پر قابو پانے کے اثرات:1۔ذہن پر قابو رکھنے سے یوگا ذہنی استحکام کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے اور اندر سے پرامن جذبات پیدا کرتا ہے۔اس سے دماغ اور جسم کو سکون ملتا ہے۔جو نیند کے امراض‘بے خوابی‘تناؤ‘افسردگی اور مہاسوں وغیرہ کو ٹھیک کرتا ہے۔دماغ کو قابو میں رکھنے سے آپ جو بھی کام کرتے ہیں۔اس میں بہتر توجہ اور مشغولیت حاصل ہوتی ہے۔2۔یہ ذہنی کمزوریوں بالخصوصی ارتکاز کی کمزوریوں کو دور کرنے کا علاج کرتا ہے۔جس کے نتیجے میں توجہ کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔3۔یہ جذباتی بے حسی اور مزاج کی سختی کو دور کرنے میں بھی معاونت کرتا ہے۔4۔ذہن پر قابو پانے کے ساتھ کوئی بھی شخص سوچ کے عمل کو اسے مثبت رخ پر لے جانے میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔اس طرح غصے‘ تھکاوٹ‘ مایوسی اور دیگر عام دماغی بیماریوں سے لڑنے کسی کی توانائی کو بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔مثبت مدد ملتی ہے کیونکہ اس طرح فرد دیگر نفسیاتی بیماریوں سے بچ جا تا ہے۔5۔ذہن پر قابو پانے سے امن کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اس کی سکون کی کنجی صرف ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔6۔خود اعتمادی کو بڑھانے میں بہتر توجہ اور ذہن پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔یہ سب جذباتی تخلیقی اور علمی ذہانیت کو بہتر بنانے میں معاونت کرتا ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More