ایڑی کا درد

روزنامہ اوصاف  |  Oct 17, 2020

پچھلے برس حسب معمول دفتر آتے ہوئے جب منی بس میرے بس اسٹاپ کے قریب پہنچی اور میں اترنے کے لئے دروازے میں پہنچا تو اسی روٹ کی دوسری منی بس کو پیچھے سے آتا دیکھ کر کنڈکٹر نے آواز لگائی کہ”بابو جلدی کرو،اب ہم اس بس اسٹاپ پر نہیں رکے گا۔“ڈرائیور نے یہ سن کر ذرا رفتار کم کی اور میں نے بس سے باہر چھلانگ لگا دی۔پورا زور بائیں پیر پر پڑا۔درد کی ایک لہر پورے جسم میں دوڑ گئی۔اسی طرح لنگڑاتے ہوئے میں دفتر پہنچا اور کام میں لگ گیا۔ایڑی میں چوٹ کا اثر شام تک ختم نہ ہوا۔گھر جا کر آرام کیا اور سوچا کہ صبح تک ٹھیک ہو جائے گا،لیکن اس درد نے گویا ایڑی میں ڈیرہ ڈال دیا تھا۔ڈاکٹر صاحب سے مشورہ کیا۔انھوں نے کچھ کھانے اور کچھ لگانے کی دوائیں دیں۔سکائی وغیرہ کا مشورہ دیا،لیکن درد کسی طرح کم نہ ہوا ، بلکہ اس میں اضافہ ہی ہونے لگا۔درد اور چوٹ کے گھریلو نسخے ،مثلاً آنبہ ہلدی اور ایلوے وغیرہ کا لیپ بھی آزما لیا۔ایک بار پھر ڈاکٹر صاحب سے مشورہ کیا تو انھوں نے ذیابیطس کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے پیشاب کے ٹیسٹ اور ایکس رے کے لئے کہا۔ایکس رے رپورٹ سے پتا چلا کہ ایڑی میں ہڈی بڑھ گئی ہے۔طب جدید کی اصطلاح میں اسے اسپر(SPUR) کہتے ہیں۔یہ چڑیا کی چونچ کی طرح کی ایک نوکیلی ہڈی ہوتی ہے۔ہڈی کی یہی نوک گوشت میں چبھ چبھ کر اذیت کا سامان کر رہی تھی۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ اس کے دو علاج ہیں،بلکہ تین ہیں۔ایک تو یہ کہ ہڈیوں کے ماہر سرجن سے آپریشن کروا کر ہڈی کٹوا دی جائے ۔دوسرے یہ کہ اس کے مخصوص ٹیکے (انجکشنز) ایڑی میں لگائے جائیں۔تیسرے یہ کہ اس کے ساتھ نبھاؤ کیا جائے۔میں نے دوسرے علاج کی ہامی بھری تو انھوں نے بتایا کہ اس سے فائدہ ضرور ہو گا،لیکن وزن میں اضافہ ہو جائے گا ،کیونکہ کارٹی زون(Cortisone)کے اس ٹیکے کا ایک یہ مضر پہلو ہے۔ایڑی کی ہڈی کا بڑھ جانا آج کل ایک عام شکایت ہے۔اس کا شکار بالعموم پچاس برس سے اوپر کے بھاری جسم کے افراد ہوتے ہیں،جنھیں کھڑے ہو کر کام کرنا پڑتا ہے۔عورتوں کے مقابلے میں مرد اس میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں اور یہ تکلیف شاذو نادر ہی دونوں ایڑیوں میں ہوتی ہے،یعنی کسی ایک ایڑی ہی کی ہڈی بڑھتی ہے۔یہاں یہ بتانا مناسب ہو گا کہ انسان کے پیر میں 62ہڈیاں ہوتی ہیں۔ان میں ایڑی کی ہڈی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔یہ ہڈی گھنٹوں پورے جسم کا بوجھ اٹھائے رہتی ہے۔کام کے دوران،چلتے پھرتے،دوڑتے اور وزن اٹھاتے ہوئے اس پر بڑا سخت دباؤ اور وزن پڑتا رہتا ہے۔ بھاری بدن کے افراد کا خود اپنا وزن مزید بار کا سبب بنتا ہے۔اسی طرح کھلاڑیوں (Athletes)میں بھی یہ تکلیف کافی عام ہوتی ہے۔ایڑی کا درد صبح کے وقت سب سے زیادہ اپنا زور دکھاتا ہے۔سو کر اٹھنے پر آپ جوں ہی پہلا قدم رکھتے ہیں،درد کی ایک لہر بڑی شدت سے اٹھتی ہے اور دو چار قدم چلنے کے بعد اس کی شدت کم ہو جاتی ہے،لیکن چلنے،دوڑنے اور وزن وغیرہ اٹھانے کی صورت میں ٹھیر ٹھیر کر اس کی چبھن ستاتی رہتی ہے۔بعض اوقات یہ درد پوری ایڑی میں پھیل کر ٹخنے تک جا پہنچتا ہے،جس کی وجہ سے مریض کو بڑی تکلیف ہوتی ہے،ٹانگ کے نچلے حصے اور کمر تک درد کی ٹیسیں جاتی ہیں۔ٹینس،فٹ بال اور گولف کے بہت سے کھلاڑی اس درد کے ہاتھوں کھیلنے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ان کھیلوں میں ایڑی پر براہ راست اثر پڑتا ہے،اس لئے درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اس سلسلے میں یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ اونچی ایڑی کے جوتے پہننے سے ایڑی کو آرام پہنچتا ہے۔درد کیوں ہوتا ہے؟اس کے کئی اسباب ہیں،جن میں نا مناسب جوتے،پیر پر پڑنے والا دباؤ اور چپٹے پاؤں کو بھی اس کا ذمے دار سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح چوٹ سے بھی ایڑی کی ہڈی متاثر ہوتی ہے۔بعض اوقات گٹھیا کی وجہ سے بھی ایڑی کی ہڈی میں فرق آجاتا ہے۔امراض خبیثہ،مثلاً سوزاک کے زہریلے اثرات سے بھی ایڑی میں درد ہو جاتا ہے،تاہم ایسا شاذو نادر ہی ہوتاہے۔بعض لوگوں کے پیر میں گٹے اور پنجے میں سختی یا اینٹھن کی وجہ سے چونکہ چال متاثر ہوتی ہے،اس لئے اس کی وجہ سے بھی ایڑی پر بار پڑنے لگتا ہے۔موٹے آدمیوں میں یہ تکلیف عام ہوتی ہے۔پنجے کی ہڈیوں کی سختی یا اینٹھن دور ہونے کی صورت میں مریض کی چال ٹھیک ہو جاتی ہے اور یوں ایڑی کا درد بھی کم ہو جاتا ہے۔اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جوتے میں ایڑی کا درد بھی کم ہو جاتا ہے۔اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جوتے میں ایڑی کے نیچے ربڑ یا فوم کی گدی رکھ لی جائے۔اس تدبیر سے بھی آرام پہنچتا ہے۔اسی طرح اگر تنگ اور سخت جوتوں کی وجہ سے یہ تکلیف ہو تو ایسے جوتوں کا استعمال ترک کرکے بالخصوص کھلاڑیوں کو چند روز تک کھیل بند کرکے گرم پانی وغیرہ سے سکائی کرنی چاہیے ۔ابتدا میں محض ان تدابیر سے فائدہ ہو سکتا ہے۔بڑھی ہوئی ہڈیبعض اوقات ایڑی کی ہڈی بڑھ جاتی ہے۔ہڈی کی یہ نوک دو سے پانچ ملی میٹر تک کی ہوتی ہے۔سوال یہ ہے کہ یہ ہڈی کس طرح بڑھتی ہے۔یہ اُبھار دراصل ایڑی کے عضلات یا پٹھوں کو جوڑنے والے ریشوں کے پاس چونے یا کیلسیئم کے جمع ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ہڈی کا یہ اُبھار دراصل ایڑی کی ہڈی ہی کی ایک توسیعی شکل ہوتی ہے،جو کیل یا پرندے کی چونچ کی طرح نوک دار ہوتی ہے۔ماہر معالج بڑی آسانی سے اس کا پتا لگا لیتے ہیں،تاہم اس سلسلے میں ایکس رے کے ذریعے بالکل درست تشخیص ہو جاتی ہے اور درد کی نوعیت میں کسی قسم کا شبہ باقی نہیں رہتا۔بڑھی ہوئی ہڈی کا علاج محض مذکورہ بالا چند تدابیر سے ممکن نہیں ہوتا،یعنی آپ درد دور کرنے والی دوائیں،لیپ،مالش یا سکائی وغیرہ سے مستقل آرام حاصل نہیں کر سکتے۔میرے معالج نے بھی درد دور کرنے کی گولیاں اور پھر آپریشن تجویز کیا تھا۔اس تکلیف کا ایک علاج کوکین یا کارٹی زون کے ٹیکے بھی ہیں۔طب جدید صرف آپریشن ہی کو اس کا علاج قرار دیتی ہے،تاہم ہومیو پیتھی میں اس کا علاج ہے۔اس سلسلے میں کلکیر یا فلور نامی دوا خاص شفائی اہمیت کی حامل ہے۔کسی ماہر معالج ہومیو پیتھی سے علاج کروانا مناسب اور مفید ہوتا ہے۔غرض ایڑی کا درد خاصا اذیت ناک ہوتا ہے۔اس کے مختلف اسباب کے پیش نظر صحیح تشخیص اور صحیح علاجی تدبیر کی بڑی اہمیت ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More