پلاسٹک فضلے کو ہائیڈروجن میں بدلنا کیسے ہوا ممکن؟ شہریوں کی پریشانی کا ہوا تدارک

سچ ٹی وی  |  Oct 17, 2020

اگرچہ کیمیاداں کئی برس سے پلاسٹک سے ہائیڈروجن بنارہے ہیں لیکن مائیکرویو کا عمل اسے آسان اور تیزتربنادیتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس میں توانائی کا خرچ بھی کم ہوتا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے پیٹرایڈورڈز اور ان کے رفقائے تحقیق نے بتایا کہ صرف برطانیہ میں ہر سال 15 لاکھ ٹن پلاسٹک کا کچرا پیدا ہوتاہے جو ایک مرتبہ استعمال ہونے والے پلاسٹک کا ضدی ڈھیر ثابت ہوتا ہے۔ اگر تھیلیوں کی بات کریں تو ان میں 14 فیصد ہائیڈروجن بلحاظ وزن پایا جاتا ہے۔اس طرح پلاسٹک میں سے ہائیڈروجن بطور ایندھن اخذ کیا جاسکتا ہے۔اس کا عام طریقہ تو یہ ہے کہ پلاسٹک کے کچرے کو انتہائی بلند درجہ حرارت (750 درجے سینٹی گریڈ) پر گرم کیا جائے۔ اس پر یہ سن گیس بن جاتی ہے جو ہائیڈروجن اور کاربن مونوآکسائیڈ کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اگلے مرحلے میں ان دونوں گیسوں کو علیحدہ کرکے اس سے ہائیڈروجن نکالی جاتی ہے۔

اس لمبے چوڑے عمل کی بجائے پروفیسر پیٹر نے پلاسٹک کو عام بلینڈر میں ڈال کر اس کا باریک چورا بنایا۔ اس کے بعد عمل انگیز شامل کئے گئے جن میں آئرن آکسائیڈ اور ایلومینیئم آکسائیڈ سرِ فہرست ہیں۔ اس کے بعد 1000 واٹ قوت کے مائیکروویو جنریٹر میں رکھا گیا ۔ اس طرح کئی مقامات سے ہائیڈروجن گیس نکلنے لگی اور پورے عمل میں ہائیڈروجن کی 97 فیصد مقدار باہرنکل آئی۔ اس عمل میں صرف چند سیکنڈ لگے اور یوں کم خرچ میں پلاسٹک کو ہائیڈروجن میں بدل دیا گیا۔

اب اس عمل سے جو بچ گیا وہ بھی ایک کارآمد شے ثابت ہوا ۔ یہ کاربن نینوٹیوبس تھیں جو دیگر کاموں میں استعمال ہوسکتی تھیں۔ اس اہم کامیابی پر ایڈورڈ نے بتایا کہ تجرباتی طور پر صرف 300 گرام پلاسٹک کو آزمایا گیا ہے اور اگلے مرحلے میں کئی کلوگرام مقدار سے ہائیڈروجن کشید کیا گیا۔ اس کے بعد صنعتی پیمانے پر اس کی آزمائش کی جائے گی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More