پالک اور کریلے کے جوس سے شوگر کو کیسے کنٹرول کیا جائے؟

بول نیوز  |  Oct 31, 2020

شوگر وہ مرض ہے جو دیمک کی طرح خاموشی سے انسانی جسم کے اندرونی اعضاء کو چاٹ لیتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پچھلے کچھ سالوں میں شوگر پوری دنیا میں لوگوں کو لاحق ہونے والی ایک عام بیماری بن گئی ہے۔

متعلقہ خبردار چینی ڈھیروں بیماریوں کا واحد معالج

دار چینی کو ونڈر مسالہ بھی کہتے ہیں یہ کھانےکا ذائقہ بڑھانے...

ڈبلیو ایچ او کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2014 میں پوری دنیا میں42 کروڑ 20 لاکھ افراد میں شوگر کی تشخیص ہوئی تھی۔

یہ بیماری اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں ہر سال شوگر کے مرض کے باعث تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد معذور ہو جاتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد شوگر کے مرض میں مبتلا ہے اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

ماہرین صحت نے اپنی ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ پالک اور کریلے کا جوس شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیےسب سے بہترین ہے۔

اس حوالے سے غذائیت کے ماہر ’ڈاکٹر انجو سود‘ کا کہنا ہے کہ کریلا کھانے سے جسم کے اندر ایک کیمیائی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو بلڈ گلوکوز کی سطح کم کرنے کے ساتھ انسولین کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

 جبکہ پالک بھی اُن چند سبزیوں میں سے ایک ہے جو شوگر میں مبتلا ہونے کا خطرہ ٹالنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ جو لوگ روزانہ کچھ مقدار میں پالک کا استعمال کرتے ہیں اُن میں شوگر کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں 14 فیصد کم ہوتا ہے۔

 اس سبزی میں وٹامن کے، میگنیشم، پوٹاشیم، زنک اور دیگر منرلز پائے جاتے ہیں جو عام صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

پالک اور کریلے کا جوس کیسے بنایا جائے؟

پالک اور کریلے کا جوس پینا انتہائی مشکل ہے کیونکہ اس کا ذائقہ بہت ہی برا ہوتا ہے لیکن اگر اس میں چند قطرے لیموں کے اور کالی مرچ ڈال لی جائے تو اس کا ذائقہ کچھ اچھا ہوجاتا ہے اور اسے باآسانی پی لیا جاسکتا ہے۔

پالک اور کریلے کا جوس بنانے کے لیے پہلے پالک کے کچھ پتوں کو باریک کاٹ لیں پھر اُنہیں اُبال لیں، اسی طرح ایک کریلا لیں اُس کے بیچ نکال کر اُسے بھی باریک کاٹ لیں اور باریک کٹی ہوئی ادرک بھی شامل کریں۔

تاہم تمام چیزوں کو ایک ساتھ بلینڈر میں ڈال کر اچھی طرح پیس لیں اور لیموں کے چند قطرے، کالی مرچ شامل کر کے استعمال کریں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More