بالوں کی پونی بنا کر سونے والی خواتین خبردار ہو جائیں ، کیا بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے ؟ ماہرین نے خبر دار کر دیا

روزنامہ اوصاف  |  Nov 21, 2020

 جانئےویسے تو لڑکیاں ہی پونی ٹیل بناتی ہیں ، لیکن آج کل لڑکے بھی بالوں کو اتنا بڑھا لیتے ہیں کہ ان کے بالوں کی پونی بن جاتی ہے ۔ وہ پونی بناکر دن بھر گھومتے ہیں اور پھر رات میں بھی اسی پونی کے ساتھ سو جاتے ہیں۔ ویسے تو لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے بال اچھے ہوں، ان کے بالوں کی نشونما ہوتی رہے اور وہ بڑھتے رہیں ۔ اس کیلئے وہ اچھے ہیئر ٹانک، تیل اور شیمپوز کا استعمال کرتے ہیں ۔ لیکن پھر بھی ان کے بال ٹوٹتے اور تیزی سے گرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ایسے وقت میں انہیں بجائے مختلف چیزیں آزمانے کے، یہ دیکھنا  چاہئے کہ ان کے طرز زندگی کے دوران کس عادت کی وجہ سے ان کے بالوں کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اگر تو لوگوں کی عادت بالوں کو پانی ٹیل میں باندھ کر سونے کی ہے تو جان لیں کہ اسی عادت کی وجہ سے ان کے بالوں کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اس مضمون میں جانئے کہ پونی ٹیل باندھ کر سونے سے کیا نقصان ہوتا ہے ۔بالوں کا گرنا:جب پونی ٹیل باندھی جائے تو بالوں کی جڑوں پر مستقل ایک دباؤ سا پڑتا ہے ۔ یہ دباؤ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے، جس وقت پونی باندھ کر لوگ سوجائیں ۔ امریکن اکیڈمی آف ڈرماٹولوجی کے مطابق پونی باندھ کر سونے سے جو دباؤ بنتا ہے ، اس کی وجہ سے بال گرنے اور ٹوٹنے لگتے ہیں ۔بالوں کا ہئیر اسٹائل خراب ہوجانا:پونی باندھ کر سونے سے جب بال گرنے لگتے ہیں تو کسی ایک حصے سے بال زیادہ گِرجاتے ہیں اور دوسرے حصے سے کم گرتے ہیں ۔ اس طرح بال اوپر نیچے ہوجاتے ہیں ، اس طرح ہئیر اسٹائل خراب ہوجاتا ہے اور بالوں کی ہئیت تبدیل ہوجاتی ہے ۔گنج پن کا شکار:مستقل بالوں کی جڑوں میں جب پونی کی وجہ سے دباؤ پڑتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان بالچر یا گنج پن کا شکار ہونے لگتا ہے ۔ کیونکہ پونی کو ٹائٹ باندھا جاتا ہے ۔جس کی وجہ سے بالوں کے خلیات ٹوٹ جاتے ہیں ۔ برٹش ایسوسی ایشن آف ڈرماٹولوجسٹس کے مطابق جب بالوں کی جڑوں پر کچھ عرصے تک مستقل دباؤ پڑنے لگتا ہے تو اس سے مستقبل میں ’گنج پن“ ہو جاتا ہے اور بال مخصوص مقامات سے گرنے لگ جاتے ہیں اور سر کے کچھ حصوں سے بال مکمل طور پر غائب ہوجاتے ہیں ۔کس انداز سے بال بنائیں:جو لوگ پونی بناتے ہیں، انہیں چاہئے کہ اس انداز کو چھوڑ دیں ، اس کے بجائے بالوں کی چٹیا بنایا کریں ، سونے سے قبل بھی بالوں کی ڈھیلی چٹیا بنائیں اور سوجائیں ، یہ ایک بہتر طریقہ ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گیلے بالوں میں کبھی نہ سوئیں ، بالوں کو سکھاکر سوئیں ، کیونکہ گیلے بالوں میں سوجانا بھی بالوں کے ٹوٹنے کا باعث بنتا ہے ۔ چاہیں تو رات کے وقت بالوں کو نہ باندھیں، انہیں کھُلا چھوڑ دیں، اس سے بھی بال صحت مند رہتے ہیں ۔تکئے کا غلاف اور بالوں کو نقصان:عموماً کاٹن یا اس انداز کے تکئے پر سر رکھنے سے بھی بال ٹوٹتے ہیں ، لہٰذا کوشش کریں کہ تکئے پر سلک کا غلاف چڑھائیں ، اس سے بال غلاف پر اٹکتے نہیں ہیں اور پھر بال ٹوٹتے نہیں ہیں ۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More