جرمنی: کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو ہلاک کرنے کے شبے میں ڈاکٹر گرفتار

ڈی ڈبلیو اردو  |  Nov 21, 2020

یہ واقعہ جرمن وفاقی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر ایسن میں پیش آیا۔ پولیس کے مطابق مرنے والے مریضوں کی عمریں 47 اور 50 برس تھیں اور دونوں دائمی امراض میں مبتلا تھے۔ ہسپتال کے ایک سینیئر ڈاکٹر نے دونوں مریضوں کو مبینہ طور پر ایسی دوا دی جس کے نتیجے میں دونوں مریض ہلاک ہوئے۔

ایسن شہر کے یونیورسٹی ہسپتال میں کام کرنے والے 44 سالہ سینیئر ڈاکٹر اس سال فروری سے مذکورہ ہسپتال میں کام کر رہے تھے۔ انہیں رواں ہفتے بدھ کے روز گرفتار کیا گیا اور جمعرات کے روز ان پر قتل کے الزامات عائد کرتے ہوئے ریمانڈ میں لے لیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابھی اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ دونوں مریضوں کس مرض میں مبتلا تھے اور وہ کس صورت حال میں ہلاک ہوئے۔ تاہم رپورٹس کے مطابق دونوں مریض کورونا وائرس سے متاثرہ تھے اور ہسپتال میں ان کا علاج کیا جا رہا تھا۔

ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ رواں ماہ 13 اور 17 تاریخ کو دو مریضوں کے اچانک انتقال پر انہیں شبہ ہوا جس کے بعد انہوں نے مقامی دفتر استغاثہ کو مطلع کر دیا اور ان مریضوں کا علاج کرنے والے سینیئر ڈاکٹر کو کام کرنے سے فوری طور پر روک دیا۔

پولیس کے مطابق ڈاکٹر نے ایک مریض کی ہلاکت میں اپنے کردار کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ مریض اور اس کے اہلخانہ کو 'مزید اذیت میں مبتلا ہونے سے بچانے‘ کے لیے کیا تھا۔

جرمنی کے کثیر الاشاعتی اخبار بلڈ کے مطابق مرنے والے دونوں مریض کووڈ انیس سے متاثر تھے اور 'انتہائی بیماری کی حالت‘ میں ان کا علاج کیا جا رہا تھا۔ تاہم ایسن کے دفتر استغاثہ نے اس ضمن میں یہ کہہ کر تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا کہ فی الحال یہ معاملہ زیر تفتیش ہے۔

گزشتہ برس جرمنی کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ملک میں انتہائی بیمار افراد اپنی جلد موت میں مدد کی درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ معاملے میں یہ واضح نہیں ہے آیا مریضوں نے ڈاکٹر سے ایسی کوئی درخواست کی تھی۔ درخواست کی صورت میں بھی کئی مراحل کے بعد ہی اسے منظور کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں جرمن معاشرے  کےماضی میں نازی دور کے دوران ہسپتالوں میں یہودیوں اور دیگر شدید یا معذور افراد پر طبی تجربات کے دوران ہزارہا افراد کی ہلاکت کے باعث آج بھی کسی مریض کی 'اسسِٹڈ موت‘ کو ایک حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔

ش ح/ ع ح (ڈی پی اے، اے ایف پی)

 

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More