قدرتی ماحول میں رہنا کاون کا حق ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ

سماء نیوز  |  Nov 28, 2020

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کاون ہاتھی اور2ریچھوں کی بیرون ملک منتقلی کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے ہاتھی اور ریچھوں کی منتقلی کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا ہے۔ کاون اور ریچھوں کی منتقلی کے بعد 21 دسمبر کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم نامے میں تحریر کیا کہ کاون کی ریٹائرمنٹ اس کی تنہائی اور درد بھری کہانی کی “ہیپی اینڈنگ” ہوگی،کاون کے بیرون ملک سفر کے لئے عدالت نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نےمزید کہا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ صدر پاکستان بھی کاون کو الوداع کہنے گئے،صدر پاکستان نے اس عدالت کا فیصلہ جانوروں کے تحفظ سے متعلق اسلامی روایات کےعین مطابق قراردیا،صدرمملکت اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ماحولیات نے ثابت کیا کہ پاکستان قدرتی ماحول کے تحفظ کا عزم رکھتا ہے۔

عدالتی حکم میں بتایا گیا کہ کاون اور دونوں ریچھوں نے ناقابل بیان تکالیف برداشت کیں،کاون اور ریچھ پنجروں میں بند کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے تھے،اب کاون اور ریچھوں کو قدرتی ماحول میں رہنے کے اس حق سے کبھی محروم نہ کیا جائے۔

عدالت نے واضح کیا کہ کاون کی پاکستان بھی دیکھ بھال کرسکتا تھامگر قدرتی ماحول میں رہنا اس کا حق ہے۔عدالت نےامیدظاہر کی کہ 35 برس بعد کاون کمبوڈیا منتقل ہوکرہاتھی کی قدرتی زندگی گزارسکےگا۔

واضح رہے کہ جمعہ کواسلام آبادہائی کورٹ میں چڑیا گھرکے جانوروں کی منتقلی اور توہین عدالت کیس کی سماعت کے موقع پر بتایا گیا کہ 29 نومبرکوکاون کوکمبوڈیا اور ریچھوں کو6 دسمبر کو اردن بھیجاجائے گا۔

سماعت کے موقع پر بیرون ملک سے آئے ماہرین جرمن ایکسپرٹ فرینک گورٹزاورمصری ماہر ڈاکٹرامیر خلیل  اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئےاورعدالت کو آگاہ کیا کہ جانوروں کومنتقل کرنے کی تاریخیں طے کردی گئی ہیں۔ تاہم ماہرین نے عدالت کو یہ بھی بتایا ہے کہ کاون کی بیرون ملک منتقلی ایک پیچیدہ عمل ہے اوراس کے لئے خصوصی انتظامات مکمل کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹرامیرخلیل کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑا مشن ہے، ہم نے کاون کی منتقلی کے لیے اسپیشل ٹرانسپورٹ باکس تیار کیا ہے،یہ ایک پیچیدہ مشن ہےکیونکہ یہ بڑا ہاتھی ہے اور سفر بھی طویل ہے۔جرمن ایکسپرٹ فرینک گورٹزنےعدالت کو بتایا کہ پہلے جائزے، پھرطبی معائنے اور اب کاون کی منتقلی کے لیے آیا ہوں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہرمن اللہ نے ریمارکس دئیے کہ پاکستان میں بھی ان جانوروں کا چڑیا گھروں میں خیال رکھا جاسکتا تھا لیکن پاکستان نےایک بہترمثال قائم کیا ہے،چڑیا گھر میں جانور انسانوں کو تفریح فراہم کرنے کےلیے نہیں ہیں،ان کو اپنے قدرتی ماحول میں رکھنا چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میرے خیال سے دنیا میں صرف کوسٹاریکا ہےجس نے چڑیا گھروں پر پابندی لگائی،جانوروں کوان کے قدرتی ماحول میں رہنا چاہیے اورکاون اب انٹرنیشنل سیلبرٹی بن گیا ہے۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ یہ صرف کاون کی کمبوڈیا منتقلی کا معاملہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نےڈاکٹرعامرخلیل کوکہا کہ آپ نے جس طرح کاون کی دیکھ بھال کی،اس کا کریڈٹ آپ کوجاتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کریڈٹ ان تمام لوگوں کوبھی جاتا ہے جنہوں نےاس کارخیر میں حصہ لیا،صدر مملکت بھی خود کاون کودیکھنے گئےاوردنیا بھر کے لیے ایک مثال قائم کی۔

ڈاکٹرعامر خلیل نے کہا کہ ہماری خواہش ہے آپ بھی کاون کو رخصت کرنے کی تقریب میں آئیں تاہم چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تقریب میں شرکت سے معذرت کر لی اور کہا کہ جج کا کام فیصلہ دینا ہے، عدالت اس بارے میں فیصلہ دے چکی ہے۔

اسلام آبادہائی کورٹ میں چڑیا گھر سے جانوروں کی منتقلی اور توہین عدالت کیس 21دسمبر تک ملتوی کردیا گیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے مرغزار چڑیا گھر سے جانوروں کی منتقلی کا فیصلہ دے رکھا ہے اور اس ہی سلسلے میں جانوروں کی مرحلہ وار منتقلی پر کام جاری ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More