امن کیلئے خطرہ:عمارجان کی گرفتاری،نظربندی کے آرڈر جاری

سماء نیوز  |  Nov 28, 2020

فائل فوٹو

ڈپٹی کمشنر لاہور نے سماجی کارکن عمار علی جان کو امن کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کی نظر بندی کے احکامات جاری کردیئے۔ عمار جان کو گرفتار کرکے 30 روز کیلئے کوٹ لکھپت جیل میں نظر بند رکھا جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) لاہور کی جانب سے جاری نظر بندی کی آرڈر میں حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عمار علی جان عوام کیلئے خطرہ ہیں۔ ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر عمار جان کو حراست میں لیا جائے۔ عمار جان شہریوں کی زندگی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے۔

جاری کردہ آرڈر کا عکس

نوٹی فیکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ عمار جان کی گرفتاری 30 روز کیلئے کی جائے گی۔ وہ اپنے ساتھیوں سمیت امن و امان کیلئے مسئلہ بن سکتے ہیں۔

ڈی سی لاہور کے جاری کردہ احکامات کے مطابق انہیں ریلی سے قبل گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ڈی سی لاہور کی جانب سے جاری احکامات کے مطابق امن و عامہ سے متعلق قانون کے سیکشن 3 کے تحت عمار علی جان کی گرفتاری کا حکم 26 نومبر کو جاری کیا گیا تھا۔

قبل ازیں طلبہ تنظیموں کی جانب سے 27 نومبر بروز جمعہ دوپہر کے وقت مال روڑ چیئرنگ کراس پر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج اور مظاہرہ کیا گیا تھا جب کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مال روڑ پر دفعہ 144کا نفاذ کر رکھا ہے۔ عمار جان کی جانب سے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام میں طلبا سے مظاہرے میں بھرپور شرکت کی اپیل بھی کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ لاہور سے تعلق رکھنے والے ماہر تعلیم عمار علی جان نے پاکستان میں طلبہ کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے لاہور میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کی تھی۔ وہ ایف سی کالج کے سابق پروفیسر ہیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ لاہور پولیس نے گزشتہ سال طلبہ یکجہتی مارچ کے منتظمین اور شرکا کے خلاف بغاوت کا الزام عائد کرتے ہوئے مختلف مقدمات درج کیے تھے اور مارچ میں شریک عالمگیر وزیر کو گرفتار کیا تھا۔

سول لائن پولیس نے ریاست کی مدعیت میں مارچ کے منتظمین عمار علی جان، فاروق طارق، اقبال لالا (مشال خان کے والد)، عالمگیر وزیر (پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور ایم این اے علی وزیر کے بھتیجے)، محمد شبیر اور کامل کے علاوہ 250 سے 300 نامعلوم شرکا کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More