ایران کے ساتھ تعلقات: امریکہ نے روس اور چین کی چار کمپنیوں پر پابندی لگا دی

وائس آف امریکہ اردو  |  Nov 28, 2020

ویب ڈیسک — امریکہ نے ایران کے میزائل پروگرام میں مدد فراہم کرنے پر چین اور روس کی کمپنیوں پر معاشی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے جمعے کو جاری کردہ بیان میں چار کمپنیوں پر ایران کے میزائل پروگرام کے لیے حساس معلومات اور ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں پر امریکی حکومت کی امداد اور برآمدات پر دو سالوں کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

چین کی جن دو کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ان میں چینگدو بیسٹ نیو میٹیریلز اور زیبو ایلیم شامل ہیں جب کہ روس کی دو کمپنیوں نیلکو گروپ اور جوائنٹ اسٹاک کمپنی ایلکون پر پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔

مائیک پومپیو کا مزید کہنا تھا کہ وہ ایران کی میزائل بنانے کی کوششوں کے خلاف اقدامات جاری رکھیں گے اور امریکہ ایران کو مدد فراہم کرنے والوں کے خلاف معاشی پابندیاں نافذ کرنے کا اختیار استعمال کرتا رہے گا۔

SEE ALSO:بائیڈن کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپس آنا چاہیے: حسن روحانیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ جو ملک یا کمپنی ان کی ایران سے متعلق پالیسیوں کی تعمیل نہیں کرے گی۔ اس پر پابندیاں نافذ کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت کے دوران امریکہ اور ایران کے تعلقات میں تناؤ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے 2018 میں الگ ہو گئے تھے جس کے بعد ایران پر پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

ایران پر امریکی پابندیاں عائد ہونے سے ایران کی معیشت کو نقصان پہنچا تھا جب کہ کرونا وبا کے باعث بھی اس کی معاشی صورتِ حال دگرگوں ہے۔

رواں سال کے آغاز پر بھی دونوں ملکوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اور معاملات جنگ کی نہج پر پہنچ گئے تھے۔

خیال رہے کہ جو بائیڈن اُس وقت نائب صدر تھے جب 2015 میں امریکہ نے دیگر پانچ عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں پابندیاں نرم کرنے کے عوض جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی شرط تھی۔

بائیڈن مختلف مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ دوبارہ اس معاہدے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More