چھ مسیحی افراد کیخلاف توہین رسالت کے الزامات خارج

سماء نیوز  |  Nov 28, 2020

فائل فوٹو: مسیحی برادری کے احتجاج کا ایک منظر

چیئرمین پاکستان علما کونسل کے مطابق مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے 6 افراد کے خلاف توہین رسالت کے الزامات کو خارج کردیا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر  اپنے بیان میں پاکستان علما کونسل کے چیئرمین طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ 6 مسیحی ورکرز پر لگائے گئے توہین رسالت کے الزامات غلط ثابت ہوئے، جس کے بعد الزامات کو خارج کردیا گیا ہے۔

طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ تمام 6 افراد بحفاظت اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔ چیئرمین علما کونسل نے بتایا کہ آنے والے وقتوں میں توہین رسالت کا قانون غلط استعمال نہ ہو، اس سلسلے میں اس پر نظر رکھی جائے گی۔

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے 6 افراد کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ ان افراد پر توہین رسالت کا واقعہ لاہور میں پیش آیا۔ واقعہ سے متعلق سما ڈیجیٹل سے گفتگو میں طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ یہ 6 افراد خاکروب ہیں، جن پر حضور پاکﷺ سے متعلق پمفلٹ کوڑے دان میں پھیکنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ واقعہ 3 روز قبل پیش آیا، جس کے بعد پنجاب متحدہ علما بورڈ میں معاملے کو اٹھایا گیا۔

پنجاب علما بورڈ کی جانب سے تحقیقات کے بعد مشترکا طور پر یہ فیصلہ دیاگیا کہ متعلقہ افراد پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ بورڈ کی جانب سے ان تمام افراد کو بے گناہ قرار دیا گیا۔

طاہر اشرفی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی یہ خاص ہدایات ہیں کہ بے گناہ افراد الزامات کی بنیاد پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہ جائے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پنجاب کے علاقے خوشاب میں بینک کے سیکیورٹی گارڈ نے بینک مینجر پر توہین رسالت کا الزام عائد کرکے اسے بینک کے اندر ہی فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

رواں سال جولائی میں بھی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں توہین رسالت کے مقدمے میں حملہ آور نے ملزم کو عدالت میں جج کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم طاہر احمد نسیم کو عدالت میں مقدمے کی سماعت کے لیے لے جایا گیا تھا جہاں ایک شخص عدالت میں داخل ہوا اور ان پر فائرنگ کر دی۔ بعد ازاں ملزم کو عدالتی احاطے سے گرفتار کرلیا تھا۔

اسی سال ستمبر کے مہینے میں پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی ایک عدالت نے توہین رسالت کے جرم میں ایک مسیحی شہری کو موت اور جرمانے کی سزا سنائی۔ لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ کے تھانے میں 38 سالہ آصف پرویز کے خلاف اکتوبر 2013 میں توہینِ رسالت کے الزام پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔

آصف پرویز مسیح کے خلاف مقدمہ ماسٹر سعید احمد نامی شخص نے درج کرایا تھا۔ مدعی کے مطابق آصف پرویز نے توہین رسالت اور مذہب کی توہین پر مبنی پیغامات موبائل فون سے بھیجے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More