ایران، افغانستان ریلوے لنک کا آئندہ ہفتے افتتاح ہوگا

سماء نیوز  |  Dec 04, 2020

Photo/Press TV

ایران اور افغانستان کے مابین تجارت کو فروغ دینے کے لیے ریلوے ٹریک آئندہ ہفتے فعال ہوجائے گی۔ مستقبل میں اس روٹ کو ترکی تک پھیلایا جائے گا۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق یہ ٹریک 200 کلومیٹر پر مشتمل ہے جو افغانستان کے شہر ہرات کو ایران کے شہر مشہد اور بعد ازاں ترکی سے مربوط کرے گی۔

اس ریلوے ٹریک کو افغانستان کی معاشی تعمیر کیلئے واحد قابل عمل آپشن سمجھا جاتا ہے۔ یہ ٹریک مال بردار گاڑیوں کیلئے استعمال ہوگا۔ افغانستان سے تجارتی سامان براستہ ایران چاہ بہار بندرگاہ تک پہنچایا جائے گا جہاں سے دنیا بھر میں ترسیل ممکن ہوگی جبکہ اسی ٹریک کو ترکی سے لنک کرکے یورپ تک رسائی ممکن بنائے جائے گی۔

افغانستان کے اندر ریلوے کا کوئی نظام موجود نہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پورے افغانستان میں صرف 25 کلومیٹر ریلوے ٹریک موجود ہے۔ حالیہ منصوبے کی 114 کلومیٹر ٹریک افغانستان کی ذمہ داری ہے

Photo/IRNA News Agency

دونوں ممالک کے حکام کا خیال ہے کہ اس ریلوے روٹ سے تجارت میں تیزی آئے گی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوجائیں گے۔ اس سے پہلے تجارت ٹرکوں کے ذریعے ہوتی رہی ہے اور پھر دونوں ممالک کا سامان سرحدوں پر دوسری گاڑیوں میں لادا جاتا ہے جو مزید وقت کے ضیاع کا سبب بنتا ہے۔

ایران کے وزیر برائے مواصلات و شہری ترقی محمد اسلمی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ دو ہفتوں کے اندر ایران اور افغانستان کے اعلی عہدیداران سرحد پر جمع ہو کر منصوبے کا افتتاح کریں گے۔

ایران افغانستان مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ حسین سلیمی نے پریس ٹی وی کو بتایا کہ ریلوے لائن کے کھلنے کے ساتھ ہی سامان کی ترسیل آسان ہوگی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس منصوبے سے ایران اور افغانستان کے درمیان تجارت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرین کے ذریعے مال بردارری پر کم لاگت آئے گی جبکہ ٹرکوں کے ذریعے مال برداری میں تاخیر ہوجاتی ہے۔ سرحد پر کسٹم کلیئرنس اور پھر ایرانی ٹرکوں سے سامان افغان ٹرکوں تک پہنچانے میں بھی وقت لگ جاتا ہے۔

گزشتہ مالی سال کے دوران ایران کی افغانستان کو برآمدات کی مالیت 2 ارب 70 کروڑ ڈالر سے زائد تھی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More