امریکا میں 70 سال بعد خاتون کو سزائے موت دیدی گئی

سماء نیوز  |  Jan 14, 2021

امریکا میں تقریباً سات دہائیوں بعد پہلی مرتبہ ایک خاتون کو سزائے موت دے دی گئی، ملزمہ لیزا منٹگمری پر حاملہ خاتون کا گلا گھونٹ کر اسے قتل کرنے اور اُس کے رحم مادر کو کاٹ کر بچے کو نکالنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

امریکی ریاست انڈیانا میں لیزا منٹگمری کو بدھ کے روز ٹیرے ہوٹ جیل کمپلیکس میں زہر کا انجیکشن لگا کر موت کی سزا دی گئی، اس سے قبل وفاقی حکومت کی طرف سے آخری مرتبہ 18 دسمبر 1953ء میں بونی براؤن ہیڈی کو موت کی سزا دی گئی تھی، جس پر ایک 6 سالہ بچے کے اغواء اور قتل کا جرم ثابت ہوا تھا۔

لیزا نے 2004ء میں ریاست میزوری میں ایک حاملہ خاتون کو گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا، 52 سالہ لیزا منٹگمری کو امریکی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب ریاست انڈیانا کی جیل میں سزائے موت دی گئی۔

خیال رہے کہ امریکی محکمۂ انصاف نے گزشتہ سال جولائی میں وفاقی حکومت کی جانب سے سزائے موت پر 17 برس بعد دوبارہ عملدرآمد شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انجیکشن لگانے سے قبل قریب موجود ایک نرس نے آرام سے اُن کا ماسک ہٹاتے ہوئے دریافت کیا کہ وہ آخری الفاظ کہنا چاہیں گی؟، جس پر لیزا نے خاموشی اور چہرے پر کچھ مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا کہ ‘نہیں’۔

جان لیوان مہلک انجیکشن لگنے کے چند منٹ میں ہی لیزا کی موت واقع ہوگئی، ڈاکٹرز نے معائنے کے بعد اس کی تصدیق کردی۔

لیزا منٹگمری کی سزائے موت پر عملدرآمد کئی روز سے جاری قانونی جنگ کے بعد ہوا جب آخری وقت میں سپریم کورٹ نے سزائے موت پر عملدرآمد کی اجازت دیدی۔

امکان ہے کہ نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن وفاقی سطح پر سزائے موت دینے پر دوبارہ پابندی عائد کردیں گے۔

امریکی ادارے ‘ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر’ کے مطابق وفاقی سطح پر 1953ء میں بونی ہیڈی نامی خاتون کو ریاست میزوری میں گیس چیمبر کے ذریعے سزائے موت دی گئی تھی۔

البتہ امریکہ میں ریاست کی سطح پر آخری بار 47 سالہ خاتون کیلی گیسنڈیرین کو ریاست جارجیا میں 2015ء میں سزائے موت دی گئی، جس پر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More