افغان امن عمل میں بھارت کی گریٹ ڈبل گیم کاانکشاف

ہم نیوز  |  Jan 22, 2021

اسلام آباد: بھارت کی خطےمیں بدامنی پھیلانےکی ایک اور کوششیں بے نقاب ہوگئی ہے۔ افغان امن عمل کو سبوتاژکرنے کے مشن میں بھارت کی گریٹ ڈبل گیم کا انکشاف ہوا ہے۔

کنگزکالج لندن کےاستاد اوی ناش پلوال کی کتاب مائی اینیمیزاینیمی نے بھارت کی گریٹ گیم کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔مذکورہ کتاب کے نتیجے میں افغان امن عمل کوسبوتاژکرنے کیلئے ہندوستان اور داعش کا گٹھ جوڑسامنے آگیا ہے۔

کابل میں گوردوارے پرحملےکاماسڑمائینڈبھی ہندوستانی شہری نکلا۔ اوی ناش پلوال نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ بھارت پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا اوربلوچستان میں عدم استحکام پیداکرناچاہتا ہے۔

اوی ناش کی کتاب میں’بلوچ اینڈ پشتون کارڈ‘ کا پورا باب لکھا گیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق مودی سرکارافغان امن عمل کی کامیابی سےخوف زدہ ہے۔ افغان امن مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئے تو مودی نے آرٹیکل 370 کو معطل کر دیا۔

خیال رہے کہ  بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دول رواں ماہ  افغانستان کا دو روزہ دورہ کیا تھا۔ اس دورے کوانتہائی رازداری میں رکھا گیا اور افغانستان کے صدارتی محل سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان کے بعد اس کا پتہ چلا۔

انہوں نے افغان صدر اشرف غنی، افغان اعلی مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ اور اپنے ہم منصب حمد اللہ محب کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقات کی تھی۔

پاکستان کا روز اول سے ہی یہ مؤقف رہا ہے کہ خطے کے امن کو بھارت سے خطرہ ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ تین چار ماہ سے بھارتی امن دشمن اقدامات کھل کر دنیا کے سامنے آرہے ہیں۔

بھارت کے داعش سے ایشیا سمیت دنیا بھر کے ممالک میں روابط اور حملوں میں ملوث ہونے کے ثبوت بھی موجود ہیں۔

امریکی ادارے فارن پالیسی نے بھی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ داعش کی کارروائیوں میں حصہ لینے والے شدت پسندوں میں سے اکثریت کا تعلق بھارت اور وسطی ایشیا سے ہے۔

بھارت افغانستان میں امن عمل کو متاثر اور ڈی ریل کرنے کے لیے تسلسل کے ساتھ کوششیں کر رہا ہے اور اس سلسلے میں بھارت کا کردار ہمیشہ سے منفی رہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان افغانستان میں جامع سیاسی اور وسیع البنیاد حل کے لیے مسلسل تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More