دورہ پاکستان: جنوبی افریقہ کا دو الگ الگ ٹیمیں کھلانے کا فیصلہ

اردو نیوز  |  Jan 24, 2021

کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے ڈائریکٹر گریم سمتھ نے کہا ہے کہ ’پاکستان کے دورے کے دوران دو مختلف ٹیمیں کھلائی جائیں گی۔ اس کی بدولت ٹیسٹ سکواڈ کے کھلاڑی اپنے گھروں کو جلدی لوٹ سکیں گے اور آسٹریلیا کے خلاف آنے والی سیریز کے لیے اپنے قرنطینہ کا آغاز کر سکیں گے۔‘

انڈیا کے این ڈی ٹی وی کے مطابق ’جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ابھی تک تاریخوں کا تعین نہیں ہوا ہے۔‘

جبونی افریقہ کی ٹیم اس وقت پاکستان کے دورے پر ہے اور دو ٹیسٹ میچوں کے علاوہ تین ٹی20 میچز بھی کھیلے جائیں گے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ 26 جنوری سے کراچی میں ہو رہا ہے۔

دوسرا ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد جنوبی افریقہ کی ٹیم پاکستان سے روانہ ہو جائے گی جبکہ جنوبی افریقہ کی ایک اور ٹیم ٹی20 میچز کھیلے گی جو بالترتیب 11، 13 اور 14 فروری کو کھلے جائیں گے۔

کرکٹ ساؤتھ افریقہ کے ڈائریکٹر گریم سمتھ نے ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں کہا کہ ’جب آپ کوویڈ 19 کے پروٹوکولز کے ماحول میں ہوتے ہیں تو ایسے میں اگر دو ٹیموں کے ارکان ایک دوسرے کو سپورٹ نہ کرتے ہوئے کرکٹ کھیلیں گے تو اس کا نقصان صحت کے ساتھ ساتھ کرکٹ کو بھی ہوتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آپ کا مقصد ایسا پروٹوکول ہونا چاہیے جو دونوں کے لیے کام کرے۔ کرکٹ آسٹریلیا کے ساتھ کچھ چیزیں طے پائی ہیں جن کے مطابق سیریز سے قبل ایک ابتدائی قرنطینہ ہو گا۔ بدقسمتی سے ہمیں ایک وقت میں دو مختلف سکواڈز کھلانا پڑیں گے۔‘

جنوبی افریقہ کی ٹیم پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کے علاوہ تین ٹی20 میچز کھیلے گی (فوٹو: اے ایف پی)ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے شیڈول کے مطابق آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے جو 14 فروری سے 13 مارچ کے درمیان ہوں گے۔

سمتھ نے آسٹریلیا کے ساتھ ٹیسٹ سیریز کے حوالے سے کہا کہ ’ان کے خیال میں یہ ایک دلچسپ سیریز ہو گی۔ ہم آسٹریلیا کی میزبانی کرنے کے لیے پرجوش ہیں لیکن بہرحال طبی پروٹوکولز اور دیگر احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔‘

قبل ازیں آسٹریلیا کے اسسٹنٹ کوچ انڈریو مکڈونلڈ نے ورچوئل پریس کانفرس میں کہا کہ ’ایک ٹیم جنوبی افریقہ جائے گی جبکہ دوسری نیوزی لینڈ روانہ ہو گی جہاں وہ پانچ میچوں کی ٹی20 سیریز کھیلے گی جو 22 فروری سے شروع ہو گی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More