پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: کس کا پلڑا بھاری رہا، اب کون فیورٹ ہے؟

وائس آف امریکہ اردو  |  Jan 24, 2021

لاہور — پاکستان نے جنوبی افریقہ کے ساتھ رواں ماہ 26 جنوری سے شروع ہونے والی ہوم سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے 17 رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کی قیادت بابر اعظم کریں گے۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دو ٹیسٹ اور تین ٹی ٹونٹی میچز کھیلے جائیں گے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں منگل کو کھیلا جائے۔ جب کہ دوسرا ٹیسٹ چار فروری سے راول پنڈی میں کھیلا جائے گا۔ تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کا آغاز 11 فروری سے ہو گا۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے گئے ٹیسٹ میچز اور ٹی ٹوئنٹی میچز کے اعدادوشمار پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے 26 ٹیسٹ میچز میں پاکستان صرف چار میچز میں کامیابی حاصل کر سکا ہے۔ جنوبی افریقہ 15 میچز میں کامیاب رہا جب کہ سات میچز بے نتیجہ رہے۔

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کل 14 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے گئے۔ جس میں سے پاکستان چھ اور جنوبی افریقہ نو میچز میں کامیاب ہوا۔

جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز کے بارے میں تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پاکستانی ٹیم، جنوبی افریقہ کی ٹیم کے مقابلے میں کم تجربہ کار ہے۔ تاہم پاکستانی پچز کو دیکھتے یہاں پاکستانی ٹیم حریف ٹیم کو سخت مقابلہ دے سکتی ہے۔

'پاکستان کو ہوم کنڈیشنز کا فائدہ ہو گا'سابق کرکٹر اور تجزیہ کار سکندر بخت کا پاکستان کے حالیہ دورۂ نیوزی لینڈ سے موازنہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان کو اس سیریز میں دورۂ نیوزی لینڈ کے برعکس ہوم کنڈیشنز کا فائدہ ہو گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سکندر بخت کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کی مشکل کنڈیشنز کے مقابلے میں پاکستانی بلے بازوں کو یہاں سازگار حالات ملیں گے جس کا فائدہ اُٹھا کر وہ یہاں لمبا اسکور کر سکتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ نئے کھلاڑیوں کو موقع دے کر پاکستان ٹیم مینجمنٹ نے اچھا فیصلہ کیا ہے۔

سکندر بخت نے پاکستانی ٹیم کا موازنہ بھارت کی ٹیم کے ساتھ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بھی آسٹریلیا کے خلاف نوجوان کھلاڑیوں کو جگہ دی اور نئے کھلاڑیوں نے اپنی کارکردگی کے ذریعے اپنی جگہ بنائی۔ لہذا نئے کھلاڑیوں کو بھی کارکردگی دکھا کر ٹیم میں اپنی جگہ بنانے کا موقع مل رہا ہے۔

پاکستانی اسکواڈ کے بارے میں کرکٹ ویب سائٹ 'کرک انفو' کے پاکستان میں نمائندے اور تجزیہ کار عمر فاروق کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نو نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کیا ہے اور جب آپ اتنی زیادہ تبدیلیاں کرتے ہیں تو ان کے بقول اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ 'پینک بٹن' دبا رہے پیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم گزشتہ دو سالوں سے ٹرانزیشن میں تھی اور اسی دوران پاکستانی ٹیم ایک بار پھر ٹرانزیشن میں چلی گئی ہے۔ جس کے بعد پی سی بی نے ان لڑکوں کو ڈراپ کر دیا ہے جو پچھلی دو سیریز میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے کھاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے سے ساؤتھ افریقہ جیسی بڑی ٹیموں کے خلاف جیت کے چانسر کم ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ نئے کھلاڑیوں کو آپ کو ٹائم دینا پڑتا ہے۔

بابر اعظم کی واپسی کتنی اہم؟پاکستانی کپتان اور سب سے مستند بلے باز بابر اعظم کی انجری کے بعد ٹیم میں واپسی پر سکندر بخت کا کہنا تھا کہ ایک کھلاڑی سے ٹیم نہیں بنتی اور اگر ایسا ہے تو پاکستانی ٹیم کو 'بابر الیون' کر دینا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے حال ہی میں کوہلی کی غیر موجودگی میں بھی آسٹریلین ٹیم کو دو بار شکست دی۔ ان کے بقول پاکستان کو ایک لڑکے پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔

بابر اعظم کا ذکر کرتے ہوئے سکندر بخت کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ اپنی اچھی بیٹنگ سے کتنے میچ جتواتے ہیں۔

بابر اعظم کی واپسی پر عمر فاروق کا کہنا تھا کہ بابر اعظم پاکستانی ٹیم کی 'ڈرائیونگ فورس' ہیں اور پاکستانی ٹیم میں ایک ہی ایسا کھلاڑی ہے جو مسلسل رنز کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کی فارم پاکستانی ٹیم کی مدد کر سکتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر بابر اعظم رنز کریں گے تو پاکستان جیتے گا۔

عمر فاروق نے بھارتی بلے باز کوہلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نہ ہونے سے بھی بھارتی ٹیم کو آسٹریلیا کے خلاف کوئی فرق نہیں پڑا۔ لہذا پاکستان ٹیم کی کارکردگی کو بھی بابر اعظم کے آنے یا نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔

پاکستانی بالنگ لائن اپجنوبی افریقہ کے خلاف پاکستانی بالنگ لائن کا ذکر کرتے ہوئے سکندر بخت کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم اسپنر ٹریک ہونے کی وجہ سے زیادہ بھروسہ اسپنرز پر کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں شامل یاسر شاہ نے زیادہ وکٹیں اُن پچز پر لی ہیں جہاں گیند ٹرن ہوتا ہے۔ لہذٰا انہیں یہاں اپنے آپ کو منوانا ہو گا۔

حارث رؤف کا ذکر کرتے ہوئے سکندر بخت کا کہنا تھا کہ انہیں رفتار کی وجہ سے ٹیم میں شامل تو کر لیا گیا۔ تاہم ایک دن میں چار اوورز کرنے اور 20 اوورز کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

عمر فاروق کا کہنا تھا کہ جن پچز پر فاسٹ بالرز کو مدد ملتی ہے۔ وہاں بھی پاکستانی فاسٹ بالرز نے پرفارم نہیں کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دورۂ نیوزی لینڈ کے دوران شاہین شاہ آفریدی اور عباس نے رنز روکے۔ لیکن ان کے بقول ٹیسٹ کرکٹ میں وکٹیں لینا زیادہ اہم ہوتا ہے۔

پاکستانی بالنگ لائن اپ کے بارے میں عمر فاروق کا کہنا تھا کہ یاسر شاہ واحد ایسے بالر ہیں جن پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے لیکن حالیہ عرصے میں اُن کی فارم بھی اچھی نہیں ہے۔

جنوبی افریقہ کے ساتھ ہوم سیریز اور کوچنگ پینل کا مستقبلعمر فاروق کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پاکستان پر اس سیریز کا کافی پریشر ہے کیوں کہ ان کے بقول اس سیریز میں جیت یا ہار سے پاکستان کے کوچنگ پینل کے مستقبل کا تعین ہو گا۔

عمر فاروق کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے اس سیریز کے لیے جو اسٹرکچر میں تبدیلیاں کی ہیں۔ وہ پاکستان کے ڈومیسٹک اسٹرکچر کا ٹیسٹ ہو گا جو دو سالوں سے چل رہا ہے۔

سکندر بخت کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں تھوڑی برتری حاصل ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پی سی بی جو بھی لڑکے منتخب کر رہا ہے۔ اُن میں سے زیادہ تر ٹی ٹوئنٹی میچز میں کارکردگی کی بنیاد پر منتخب کیے گئے ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More