شرمین عبید چنائے، اداکارا اسرا پر کیوں برس پڑیں؟

بول نیوز  |  Jan 24, 2021

آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے، حلیمہ سلطان پر برس پڑیں۔

 تفصیلات کے مطابق پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے  سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیرِ گردش کرتی حلیمہ سلطان کے پشاور زلمی کے برانڈ ایمبسیڈر بننے کی خبروں پر برس پڑیں۔

متعلقہ خبراداکارہ عائشہ اور ترک اداکارہ اسراء بلجیک دوست بن گئیں

پاکستان کی مقبول ترین اداکارہ عائشہ اور ترک اداکارہ اسراء بلجیک کی...

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ کی معروف کردار ’حلیمہ سلطان‘ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پشاور کے اسلامیہ کالج کی ایک خوبصورت تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے ’پھولوں کا شہر‘ قرار دیا تھا۔

تاہم بعد ازاں پشاور زلمی کے بانی جاوید آفریدی نے تُرک اداکارہ کا یہ ٹوئٹ ری ٹوئٹ کیا اور وہی کیپشن درج کیا جو حلیمہ سلطان نے لکھا تھا ’پھولوں کا شہر۔‘

خیال رہے کیونکہ اسرا بیلگیچ رواں سال پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) میں بطورِ برانڈ ایمبیسیڈر پشاور زلمی کی نمائندگی کریں گی۔

THE CITY OF FLOWERS

— Javed Afridi (@JAfridi10) January 19, 2021

اس ضمن میں فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ایک پیچ کی جانب سے اسرا بیلگیچ کے پشاور زلمی کے برانڈ ایمبسیڈر بننے سے متعلق پوسٹ شیئر کی گئی۔

اس پوسٹ پر جہاں انسٹاگرام صارفین نے مختلف تبصرے کیے تو وہیں آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی ہدایتکار شرمین عبید چنائے بھی کسی سے پیچھے نہ رہیں۔

دوسری جانب شرمین عبید نے اس پوسٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایک تُرک اداکارہ جس کے اپنے ملک کرکٹ نہیں کھیلا جاتا وہ اب پاکستان میں کرکٹ کی نمائندگی کریں گی۔‘

فلم ساز شرمین عبید نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’ہمارے اپنے پاکستانی اداکارائیں کہاں چلی گئیں جو ہمیں غیر ملکی اداکارہ کی ضرورت پڑگئی؟

اُنہوں نے کہا کہ ’اگر آپ اسی طرح تُرک اداکاروں کو اپنے ملک میں کام دیتے رہوگے تو ہماری فلم انڈسٹری بالکل ختم ہوجائے گی۔‘

شرمین عبید نے مزید کہا کہ ’جو کام آپ غیر ملکی فنکاروں سے کروا رہے ہو وہ کام ہمارے پاکستانی فنکار بھی بخوبی کرسکتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ شرمین عبید چنائے کے اس تبصرے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اُنہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

-->
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More