ناساکےنئےروبوٹ نےمریخ سےپہلی تصویربھیج دی

سماء نیوز  |  Feb 19, 2021

تصویر: ناسا

نظامِ شمسی کے چوتھے سیارے مریخ پر نیا روبوٹ پرسیورینس روورپہنچ چکا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے پرسیورینس روور کو مریخ کے خط استوا کے قریب جیزیرونامی ایک گہرے گڑھے میں اتارا۔

یہ ناسا کی جانب سے مریخ پر اتارا گیا ایک ٹن وزنی دوسرا روور ہے۔ کامیاب لینڈنگ کی تصدیق ہونے پر ریاست کیلیفورنیا میں ناسا کے مشن کنٹرول میں موجود انجینیئرز میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

بی بی سی میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 6 پہیوں والا یہ روبوٹ کم از کم 2 سال تک جیزیر کے پتھروں میں ڈرلنگ کر کے ماضی میں زندگی کی موجودگی کے ثبوت اکٹھے کرے گا۔ گڑھے سے متعلق خیال ہے کہ اربوں سال قبل یہاں ایک بہت بڑی جھیل موجود تھی اورجہاں پانی موجود ہو وہاں زندگی کی موجودگی کا امکان بھی موجود ہوتا ہے۔

مریخ سے پتھروں کے یہ نمونے 2030 کی دہائی میں زمین پرلائے جائیں گے، جہاں ان کا جائزہ لیا جائے گا۔

لینڈنگ کے بعد خلائی گاڑی نے سیارہ مریخ سے تصاویر بھی ٹویٹ کردی ہیں۔مشن کنٹرولرز کو پرسیورینس کی لینڈنگ اور محفوظ ہونے کا سگنل عالمی وقت کے مطابق رات آٹھ بج کر 55 منٹ پر موصول ہوا۔

اگلے چند ہفتوں میں انجینیئرز روور کے مختلف سسٹم چیک کریں گے کہ کہیں انہیں لینڈنگ کے مشکل حالات سے نقصان تو نہیں پہنچا۔ گرد وپیش کا جائزہ لینے کے لیے یہ کئی تصاویر زمین پر واپس بھیجے گا۔

سال 2012 میں گیل کریٹر میں استعمال کی جانے والی کیوروسٹی روور سےکافی مختلف ہے۔ چیف انجینیئر ایڈم سٹیلنر کے مطابق وہ ایسا روبوٹ بنانا چاہتے تھے جو کیوروسٹی سے زیادہ تیز ہو کیونکہ مریخ کی سطح پر نوکیلے پتھر (وینٹی فیکٹس) ہیں جن سے کیوروسٹی کے پہیوں کو نقصان پہنچا تھا۔پرسیویرنس کے چلنے کا طریقہ بہتر ہے اور اس کے پہیے مضبوط ہیں۔ یہ نوکیلے پتھروں اور ریت پر بھی اچھی کارکردگی دکھائیں گے۔

مشن پر 20 سے زیادہ کیمرے اور 2 مائیکرو فون ہیں۔ 2 کیمرے ایک چھوٹے ہیلی کاپٹر پر ہیں جو مریخ کی ویران آب و ہوا میں اڑان بھرنے کی کوشش کریں گے۔ 1970 کی دہائی میں وائکنگ لینڈر کے بعد یہ مریخ پر ناسا کا پہلا مشن ہے جو زندگی کے آثارڈھونڈے گا۔اس عرصے تک کئی مشنز میں یہ جائزہ لینے کی کوشش کی گئی تھی کہ آیا یہاں انسان بس سکتے ہیں۔

ناسا اور یورپی خلائی ادارے نے اس مشن کی کامیابی کے لیے کئی ارب ڈالر کا منصوبہ تشکیل دیا ہے۔سال 2026 میں ایک اور چھوٹا روور لانچ کیا جائے گا جو جیزیرو کے قریب پہنچے گا اور پرسیویرنس کے اکٹھے کردہ نمونے حاصل کر لے گا۔

انھیں مریخ کے مدار پر بھیجا جائے گا اور انھیں ایک مصنوعی سیارے (سیٹلائٹ) کے ذریعے پکڑکر واپس لایا جائے گا جہاں زمین کی لیبارٹریوں میں اس کی کڑی جانچ ہوگی۔

اس طویل مدتی منصوبے کا مقصد خلابازوں کو مریخ پر پہنچانا ہے۔ پرسیویرنس ایسے تجربات کرے گا جس سے دیکھا جائے گا کہ آیا کہ ممکن ہے کہ مریخ پر سانس لینے لائق آکسیجن پیدا کی جاسکتی ہے۔ اس سیارے کے ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کثرت پائی جاتی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More