بھارتی شدت پسند حکومت ایک اور متنازع قانون لے آئی

بول نیوز  |  Feb 20, 2021

بھارتی شدت پسند حکومت ایک اور متنازع قانون لے آئی۔

خبر ایجنسی کے مطابق بھارت میں ایک نئے حکم نامے میں سرکاری یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بین الاقوامی اسکالرز  کی آن لائن وسیمینارز اور انڈیا کی سلامتی سے متعلق موضوعات پر کانفرنسز میں شرکت وزارت خارجہ کی منظوری سے مشروط کردی ہے۔

بھارت میں نئے سرکاری حکم نامے کو دنیا بھرمیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، بھارتی حکومت نے قومی سلامتی کے لبادے میں تعلیمی اداروں پر پابندیاں لگانا شروع کردی ہیں۔

بھارتی شدت پسند حکومت ایک اور متنازع قانون لے آئی جس کے مطابق حکومت کے جاری کردہ حکم نامے میں تعلیمی اداروں میں بین الاقوامی اسکالرز کی آن لائن سیمینار میں شرکت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

حکم نامے میں تعلیمی اداروں کو پابند کیا گیا ہےکہ وہ قومی سلامتی سے متعلق سیمینار میں اسکالرز کی شرکت کے لیے وزارت خارجہ سے اجازت لیں گے۔

بھارت اور دنیا بھر میں اس نئے قانون پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔

ماہرین کاکہنا ہے کہ اس قانون سے دنیا بھرمیں بھارت کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔

 امریکہ کی روٹگرز یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر بھارتی تاریخ کے ماہر آندرے ٹروشکے نے اس قانون پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ورچوئل تعلیمی تقریبات پر نئی پابندیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ انڈیا کی حکومت کمزور، خوفزدہ اور آمرانہ ہے۔

-->
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More