زندگیوں پر ہونے والے منفی تبصرے سُن سُن کر تھک گئی ہوں، شنیرا اکرم

بول نیوز  |  Feb 22, 2021

معاشرتی مسائل پر اپنی آواز بُلند کرنے والی شنیرا اکرم منفی تبصروں سے تھک گئیں۔

تفصیلات کے مطابق سماجی کارکن شنیرا اکرم کہتی ہیں کہ وہ دوسروں کی زندگیوں پر ہونے والے منفی تبصرے سُن سُن کر تھک گئی ہیں۔

متعلقہ خبرشنیرا اکرم کس ملک کی محبت میں گرفتار ہوگئیں؟

سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے بتا دیا کہ...

شنیرا اکرم نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں کہا کہ ’میں لوگوں کے بارے میں منفی تبصرے سُن کر بہت تھک گئی ہوں۔‘

Sick of hearing negative negative negative all the time! Everyone is entitled an opinion yes, but at least back it up with something credible! Every time you bash someone it’s the same old comments and half the time it’s only to be different, only it’s not different, it’s boring!

— Shaniera Akram (@iamShaniera) February 22, 2021

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر شوبز شخصیات سمیت دیگر افراد کو کس بھی ایک وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کبھی کسی کے لباس پر تنقید کی جاتی ہے تو کبھی کسی کی ذاتی زندگی میں ہونے والے کسی واقعے کی بناء پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

 آج کے اس جدید دور میں سب سے زیادہ تنقید سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کا سہارا لیتے ہوئے کی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ شنیرا نے اس کے خلاف آواز بھی سوشل میڈیا پر اُٹھائی ہے۔

شنیرا اکرم نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ’ہر ایک کا اپنا نظریہ خیال ہوتا ہے اور یہاں ہر ایک کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق ہے۔‘

سابق کرکٹر کی اہلیہ نے نے کہا کہ ’آپ جب بھی کسی پر تنقید کرتے ہیں تو وہیں پُرانے منفی تبصرے ہوتے ہیں۔‘

انہوں کہا کہ ’آپ کی تنقید میں کچھ مختلف نہیں ہوتا، وہی پُرانی باتیں دہرائی جاتی ہیں۔‘

شنیرا اکرم نے مزید کہا کہ ’میں اب ان سب سے بور ہوگئی ہوں۔‘

واضح رہے کہ لیجنڈ کرکٹر وسیم اکرم نے سال 2013 میں آسٹریلوی نژاد شنیرا سے شادی کی جن سے ان کی ایک بیٹی عائلہ ہے،عائلہ کی پیدائش 2014 میں ہوئی تھی۔

-->
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More